اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل کے سلسلے میں پاکستان بھی ضابطہ سازی میں شریک ہوگا۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں منعقدہ عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نےکہا کہ دنیا کے مالیاتی قواعد دوبارہ لکھے جا رہے ہیں اور پاکستان اس نئے عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرے گا۔
بلال بن ثاقب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مالیاتی نظام تیزی سے سافٹ ویئر، بلاک چین اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے خودکار ہوتا جا رہا ہے۔ سرحدیں اس تبدیلی کو نہیں روک سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سوال یہ نہیں رہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی اجازت دی جائے یا نہیں، بلکہ اصل سوال ان کی بڑھتی ہوئی بالادستی اور مؤثر ضابطہ بندی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹوکنائزڈ فنانس کے قواعد تشکیل دینے والے ممالک میں شامل ہوگا۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو چاہیے کہ وہ مالیاتی مستقبل کے اصول خود مرتب کریں، نہ کہ صرف ان پر عمل کریں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان اس وقت ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے ’پاکستان فرسٹ‘ حکمت عملی پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی جدت کو روکنا نہیں بلکہ اسے مؤثر انداز میں ریگولیٹ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی سے محفوظ اور پائیدار انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔
بلال بن ثاقب نے عالمی فورم میں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیز (CBDCs)، اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزڈ منی کے حوالے سے بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے ڈیجیٹل اثاثوں کو اپنانے کی جانب پیش رفت کی اور اب ان کے لیے جامع ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی بڑی ڈیجیٹل اثاثہ مارکیٹوں میں شامل ہو چکا ہے۔ عالمی کرپٹو اپنانے کی درجہ بندی میں ملک تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان عالمی مالیاتی نظام کی نئی تشکیل میں اپنی مؤثر موجودگی یقینی بنانے کے لیے پالیسی سازی اور ضابطہ بندی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔
مزید پڑھیں۔فیفا ورلڈکپ: بیلجیئم نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنالی


