Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ٹیکس نا دہندگان کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ،قانونی ترامیم تیار

کراچی(نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے ٹیکس نا دہندگان کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے انکم ٹیکس ریٹرن کے موجودہ فائلرز کے لیے اثاثے خریدنے سے حق سے انکار کرنے کیلئے قانونی ترامیم تیار کرلیں

ذرائع کے مطابق یہ اس صورت میں ہوگا کہ اگر ان کا اعلان کردہ نقد بیلنس اور آمدنی نئے اثاثوں کی لاگت سے کم ہوگی۔ ٹیکس حکام کے مطابق حکومت کا خیال ہے کہ موجودہ تقریبا 60 لاکھ فائلرز میں سے زیادہ تر نے ایف بی آر کے پاس جمع کرائے گئے سالانہ گوشواروں میں اپنے اثاثوں اور آمدنیوں کو کم ظاہر کیا ہے

۔یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان لوگوں اور فرموں کو جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں ہیں کو مزید ریونیو کے لیے ٹارگٹ کیا جائے گا۔ اس کے لیے یا تو صدارتی آرڈیننس جاری کر کے یا قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جائے گا۔ حکومت کا نان فائلرز کی جانب سے اثاثوں کی خریداری پر زیادہ ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ ٹیکس کی تنگ بنیاد اور فائلرز کی جانب سے کم ٹیکس دینے کی وجہ سے ہے۔فائلرز کو بینکوں سے اپنا کیش بیلنس نکالنے سے بھی اس صورت میں روکا جا سکتا اگر ان کی مجموعی نقد رقم ان کے ٹیکس گوشواروں میں دکھائی گئی رقم سے کم ہوگی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ان نئے سخت قانونی اقدامات کو یکم اکتوبر سے نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق ایف بی آر موجودہ ٹیکس دہندگان کی معلومات تک سرکاری محکموں اور کمرشل بینکوں تک رسائی دے گا تاکہ وہ ان اثاثوں کی خریداری کے حق سے انکار کر سکیں۔پاکستان کے صنعت کاروں نے پہلے ہی بیرون ملک اپنے کاروبار شروع کر دیے ہیں اور لوگ بھاری ٹیکسوں سے دور رہنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اس صورت حال نے تنخواہ دار اور کاروباری افراد کی کمر توڑ دی ہے۔

تنخواہ دار افراد اپنی مجموعی تنخواہ کا 39فیصد تک ٹیکس ادا کرتے ہیں اور کاروباری افراد کے لیے یہ تناسب ان کی خالص آمدنی کا تقریبا 50 فیصد تک ہے۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق حکومت انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو میوچل فنڈز اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے حق سے انکار کرنے کی تجویز بھی دے رہی ہے۔ ایک اور تجویز کے مطابق نان فائلرز کو جائیداد خریدنے کے حق سے بھی محروم کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں