Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

لیاقت باغ پرجھڑپیں، بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کا راولپنڈی میں داخلہ بند، قافلوں پر پولیس کی شیلنگ

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)پی ٹی آئی کی جانب سے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کیلئے کارکنان لیاقت باغ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں پولیس کی جانب سے ان پر شیلنگ کی گئی اور ربر کی گولیاں برسائی گئیں، جبکہ کارکنان نے جواب میں پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس کی دوڑیں لگوا دی گئیں، مظاہرین شیلنگ سے بچنے کیلئے مری روڈ سے متصل گلیوں میں داخل ہوگئے، جبکہ علاقہ مکین پی ٹی آئی مظاہرین کو پانی پلانے میں مشغول نظر آئے، اٹک سے آنے والے قافلوں پر بھی پولیس نے شیلنگ کی، جبکہ راولپنڈی میں احتجاج پر 8 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس کی جانب سے فائر کئے گئے آنسو گیس کے شیلز اور ربر بلٹ سے بچ بچا کر پی ٹی آئی کارکنان ٹولیوں کو صورت میں مختلف گلیوں سے لیاقت باغ کے سامنے نمودار ہوگئے، وہاں پہنچ کر بھی پولیس کی جانب سے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں، جواب میں کارکنان نے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا اور کانچ کی بوتلیں ماریں۔ کمیٹی چوک میں خواتین کارکنان پر بھی شدید شیلنگ کی گئی، خواتین کارکنان کی قیادت عالیہ حمزہ کر رہی تھیں۔

خیال رہے کہ سہ پہر تین بجے تک کوئی رہنما لیاقت باغ نہیں پہنچ سکا تھا، تقریباً چار بجے شہریار ریاض کی قیادت میں پہلا قافلہ راولپنڈی پہنچا جبکہ لیاقت باغ پہنچنے والا پہلا قافلہ عامر مغل کا تھا جو ساڑھے چار بجے پہنچا، پولیس نے بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرام راجہ کو بھی راولپنڈی جانے سے روک دیا، اور اب خیبرپختونخوا کی طرف سے آنے والے قافلوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

احتجاج کا اعلان سامنے آنے کے ساتھ ہی پولیس اور پارٹی قائدین نے اپنی اپنی حکمت عملی تیار کرلی تھی۔ پولیس نے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے راولپنڈی میں پچیس مقامات کنٹینرز لگا کر بند اور پولیس کے چار ہزار افسران اور جوان تعینات کیے۔ دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی قیادت نے مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، کارکنوں کے گھروں پر 32 تھانوں کی پولیس کے چھاپے مارتی رہی لیکن کوئی سرگرم کارکن پولیس کے شکنجے میں نہیں آیا۔

راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے مواصلاتی نظام مفلوج ہے، راولپنڈی کی حدود میں موبائل فون سگنلز بھی ڈاؤن کردیے گئے ہیں، میٹرو بس سروس معطل ہے جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی لاہور قیادت کی حکمت عملی کی اور گرفتاری سے بچنے کیلئے رات ہی راولپنڈی سے روانہ ہوگئے۔

ادھر بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا فیصلہ کن معرکہ شروع ہوا ہے اور عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر وزیراعلیٰ خبیرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں راولپنڈی سے ٹکرائے گا۔

آئی ایل ایف وکلاء کی پولیس سے گرما گرمی

راولپنڈی میں انصاف لائرز فورم کے وکلاء اور پولیس میں بھی گرما گرمی ہوئی، وکلاء لیاقت باغ احتجاج کیلئے ضلع کچہری میں جمع ہو رہے تھے کہ پولیس کی بھاری نفری نے انہیں احتجاج سے روکنے کی کوشش کی ، آئی ایل ایف وکلاء نے کچہری میں داخل ہونے پر پولیس کے خلاف احتجاج کیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریاں

تحریک انصاف نے دعویٰ کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ ایچ 13 کے پاس سے گرفتار کیا گیا، دونوں راولپنڈی جارہے تھے کہ انہیں گاڑی سے اتار کر پولیس وین میں بٹھا دیا گیا۔

بعدازاں، پولیس ٹیم نے بیرسٹر گوہر کو رہا کردیا۔

بیرسٹر گوہر نے رہائی کے بعد بتایا کہ ہمیں پولیس نے ایچ 13 سے گرفتار کیا، میرے ساتھ سلمان اکرم راجہ بھی تھے، ابھی کہا ہے کہ راولپنڈی کی بجائے واپس چلے جائیں، سلمان اکرم راجہ اور میری بحث کے بعد پولیس نے مجھے واپس بھیجا، سلمان اکرم راجہ پولیس کی تحویل میں ہیں ہمیں راولپنڈی جانے نہیں دیا جا رہا۔

سلمان اکرم راجہ کو بھی پولیس نے واپس چھوڑ دیا اور انہیں راولپنڈی جانے سے روک دیا گیا۔ پولیس نے سلمان راجہ کو ہدایت کی کہ آپ واپس اسلام آباد جائیں۔

پانچ بجے کے قریب پولیس نے پی ٹی آئی کی خاتون رہنما سیمابیہ طاہر کو بھی گرفتار کرلیا۔

پونے چھ بجے پی ٹی آئی کے صوبائی رکن اسمبلی تنویر اسلم مری روڈ سے گرفتار کرلئے گئے۔

تنویر اسلام نے گرفتاری کے دوران پولیس اہلکاروں کو کہا کہ آپ نے مُجھے تھپڑ مارا اس کا حساب دینا ہو گا

اٹک پل پر شیلنگ

پی ٹی آئی کارکنوں پر اٹک کے مقام پر شیلنگ کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ نہتے کارکنوں پر شیلنگ کی گئی ہے۔

اٹک پُل پر پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے، پولیس کی جانب سے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی، جواب میں مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

گنڈا پور کا قافلہ صوابی سے روانہ

خیبرپختونخوا سے ممکنہ مظاہرین کی آمد کے خدشے کے پیش نظر 26 نمبر چونگی پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی، پولیس نے 26 نمبر چونگی روڈ کے اطراف تمام لائٹس بند کروا دیں، پشاور روڈ چونگی نمر 26 پل کو دونوں اطراف کنٹینرز سے مکمل بند کردیا گیا جس سے شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خواتین بچے بوڑھے پیدل پل کراس کر کے منزل کی طرف جانے پر مجبور ہوئے جبکہ دیگر شہروں سے آنے والے مسافر بھی پریشان ہوئے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پشاورموٹروے ٹول پلازہ پہنچنے کے بعد قافلے کے ہمراہ صوابی سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے پہنچتے ہی کارکن گاڑی کے پاس جمع ہوگئے۔ کارکنوں کی جانب سے وزیراعلیٰ کے حق میں نعرے بازی کی۔

صوبہ بھر کے تمام ایم پی ایز اور ایم این ایز راولپنڈی احتجاج کےلئے صوابی سے روانہ ہونگے پشاور موٹروے انبار انٹرچینج کے قریب ریسٹ ایریہ میں کارکنان کےلئے استقبالیہ کیمپ لگا لیا گیا ہے جہاں کرسیاں اور شامیانے لگا لیے گئے ہیں پانی اور سایے کا بندوبست بھی کیاگیا ہے جبکہ سرکاری وسائل کا استعمال بھی جاری ہے ایک بار پھر بھاری مشینری ریسکیو1122، فائر ریگیڈ اور دیگر بھاری مشینری پہنچا دی گئی ہے کارکنان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

مردان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہر رکاوٹ عبور کرکے پنڈی جائیں گے ، پنجاب حکومت جو کرسکتی ہے کرلے ہم ڈرنے والے نہیں۔

انہوں ںے کہا کہ آگے دما دم مست قلندر ہونے والا ہے، پاکستان میں دفعہ 804 لگ چکی ہے، ہر رکاوٹ عبور کرکے پنڈی جائیں گے، آگے آگے تماشا دیکھیں ہوتا کیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے گنڈا پور کو خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی میں تماشہ لگانے کی اجازت نہیں، قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو سختی سے نمٹیں گے۔

کارکنوں کے گھروں پر 32 تھانوں کی پولیس کے چھاپے

جڑواں شہروں میں پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر 32 تھانوں کی پولیس نے چھاپے مارے۔ تاہم پی ٹی آئی کی موثر حکمت عملی کے باعث رات بھر کوئی بھی سرگرم کارکن پولیس کے شکنجے میں نہیں آیا۔

دوسری جانب راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے سیاسی دفاتر بند کردیے گئے ہیں۔ شمس آباد، رحمان آباد، بھارہ کہو، مارگلہ ٹاؤن، چک شہزاد میں موجودپی ٹی آئی کے پبلک سیکرٹریٹ بند ہیں۔

جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری لیاقت باغ کے باہر اور اندر تعینات کر دی گئی ہے، پولیس نے چہل قدمی کیلئے آنے والے افراد کو بھی باہر نکال دیا ہے۔

موبائل اور میٹرو بس سروس معطل رہے گی، ذرائع
دوسری جانب پی ٹی آئی کے آج ہونے والے احتجاج کے اعلان کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی بھر میں آج موبائل سروس معطل رہے گی۔

آج انتظامیہ کی جانب سے عام تعطیل کا اعلان بھی متوقع ہے ، موٹر وے ایم ون ایم ٹو کو بھی بند رکھا جائے گا جبکہ چکری، باہتر، ٹیکسلا، اے ڈبلیو ٹی سے بھی شاہراوں کو بند کیا جائے گا

ذرائع کے مطابق جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس معطل رہنے اور مری روڈ کو کنٹینرز لگا کر بند بھی کئے جانے کا امکان ہے۔

پی ٹی آئی نے احتجاج سے متعلق حکمت عملی ترتیب دیدی، ذرائع
لیاقت باغ میں احتجاج کے اعلان اور حکومتی اقدامات کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاج سے متعلق حکمت عملی ترتیب دیدی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلی کے پی بھی راولپنڈی احتجاج میں شرکت کرینگے، وزیراعلی علی امین گنڈا پور احتجاج کی قیادت کریں گے، پی ٹی آئی قیادت قافلوں کی صورت میں لیاقت باغ جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے پی ٹی آئی کی کارکنان کو 2 بجے لیاقت باغ پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

راولپنڈی ڈویژن میں دفعہ 144 کے نفاذ
حکومت پنجاب نے راولپنڈی ڈویژن میں 2 دن کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی، رینجرز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

راولپنڈی ڈویژن میں ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اورایسی تمام سرگرمیوں پرپابندی عائدکرنے کیلئے دفعہ 144نافذ کردی گئی ہے۔

نوٹفیکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق ہفتہ 28 ستمبراور اتوار 29 ستمبرکوہوگا، راولپنڈی ڈویژن کےچاروں اضلاع راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال میں دفعہ 144 نافذ ہوگی۔

ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز کی 6 کمپنیاں تعینات ہونگی، ہتھیاروں سے لیس شرپسند عناصر کا راولپنڈی آمد کا اندیشہ ہے،،امن وامان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔

رینجرز کی تعیناتی کیلئے وفاقی حکومت کومراسلہ جاری کردیا گیا، محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

ادھرسی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی نے افسران کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔

حکم نامہ کے مطابق کسی قسم کی بھی چھٹی کرنے کی اجازت نہیں ہو گئی، خلاف ورزی کرنے والوں کو نوکری سے برخاست کردیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں :میں نےکہا تھا حکومت پی ٹی آئی کو جلسہ خود بنا کر دے گی، شاہد خاقان عباسی

یہ بھی پڑھیں