حال ہی میں آپ نے یہ خبر سنی ہوگی کہ امریکہ میں گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ پیچھے کرلی گئی ہیں۔
یہ گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کیوں کی گئی تھیں؟ امریکہ کے علاوہ اور کتنے ممالک ہر سال ایسا کرتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں۔گھڑی کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کی حکمت عملی کو عام اصطلاح میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (ڈی ایس ٹی) کہا جاتا ہے جس میں اسٹینڈرڈ ٹائم یعنی معیاری وقت میں تبدیلی کی جاتی ہے۔
دنیا کے 70 سے زائد ممالک میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے تحت موسم گرما میں گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کرنے کا تجربہ کیا جاتا ہے، یہ نظام بنیادی طور پر موسم گرما میں دن کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
ڈے لائٹ سیونگ ٹائم یا دن کی روشنی کی بچت کے نظام پر عمل درآمد کرنے والے زیادہ تر مغربی ممالک میں اکتوبر یا نومبر میں گھڑیاں اس لیے پیچھے کر دی جاتی ہیں کیونکہ مارچ کے آخری اتوار کو موسم گرما کے معیاری وقت کے آغاز پر گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کردیا جاتا ہے۔
موسم سرما کی آمد سے پہلے جب موسم خزاں میں دن چھوٹے ہونے لگتے ہیں تو سورج کی روشنی کے حساب سے گھڑیوں کو ایڈجسٹ کر لیا جاتا ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ کام دن کی روشنی میں نمٹا سکیں۔
اس کے آغاز اور اختتام کی تاریخ مختلف ممالک کے محل وقوع اور دیگر عوامل کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔
مثلاً یورپی ممالک میں موسم گرما میں مارچ کی آخری اتوار کو گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے اور اکتوبر میں آخری اتوار کو گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کردی جاتی ہیں، جبکہ امریکہ اور کینیڈا میں مارچ کی دوسری اتوار کو گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے اور نومبر کی پہلی اتوار کو گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کردی جاتی ہیں۔
وقت تبدیل کرنے کا خیال سب سے پہلے کسے آیا؟
دن کی روشنی کی بچت کے نظام کو اگرچہ لگ بھگ 100 سال پہلے اپنایا گیا تھا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ قدیم تہذیبیں بھی اس کی مشق میں مصروف تھیں۔جدید ادوار میں سب سے پہلے یہ خیال امریکی موجد اور سیاست دان بینجمن فرینکلن کو آیا جنہوں نے 1774ء میں ‘روشنی کی لاگت کے لیے ایک اقتصادی منصوبہ’ نامی ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے موم بتی کے استعمال میں کمی کے لیے لوگوں کو جلدی بستر سے نکل کر قدرتی روشنی کا زیادہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
برطانیہ میں پہلی بار ‘ڈے لائٹ سیونگ ٹائم’ کا خیال ایک مشہور تاجر اور بلڈر ولیم ویلیٹ کے دماغ میں آیا تھا جنہوں نے غور کیا کہ برطانیہ میں لوگ موسم گرما میں طلوع آفتاب کے بعد بھی سوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے 1907ء میں اپنے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ‘روشنی کی بربادی’ کے عنوان سے ایک پمفلٹ میں دلیل دی تھی کہ گھڑیوں کو سال کے مختلف اوقات میں تبدیل کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ دن کے زیادہ وقت کا استعمال کر سکیں۔
امریکہ میں پہلی بار اس نظام پر 1918ء میں عمل درآمد کیا گیا تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد اسے بہت سے ملکوں نے ترک کر دیا لیکن 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں توانائی کے بحران کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ میں بڑے پیمانے پر اسے پھر سے اپنا لیا گیا۔
بعد ازاں اس خیال کو پذیرائی ملی اور دنیا کے بہت سے ممالک نے اس تجویز کو مناسب سمجھ کر اپنے اپنے ملکوں میں رائج کیا، امریکہ میں یہ نظام Uniform Time Act کے تحت 1966 سے نافذ العمل ہے۔
پاکستان میں یہ تجربہ کب کیا گیا؟
کیا آپ کو یاد ہے کہ پاکستان میں بھی یہ تجربہ کیا جا چکا ہے، 2002 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (ڈی ایس ٹی) کا نفاذ ضروری ہو گیا ہے، حکومت نے اپریل 2002 کے پہلے اتوار یعنی 7 اپریل کو گھڑیوں کی سوئیوں کو ایک گھنٹہ آگے کرنے اور اکتوبر کے پہلے اتوار یعنی 6 اکتوبر کو ایک گھنٹہ پیچھے کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
دوسری بار یہ تجربہ 2008 میں پیپلزپارٹی کے دورِحکومت میں کیا گیا جب یکم جون 2008 سے 31 اکتوبر 2008 تک گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے کی گئیں، بعدازاں 15 اپریل 2009 سے 31 اکتوبر 2009ء تک ملک میں ایک مرتبہ پھر یہی سسٹم آزمایا گیا، تاہم اسکے بعد سے پاکستان میں توانائی کی بچت کیلئے دوبارہ یہ حکمت عملی نہیں اپنائی گئی۔
پاکستان کے علاوہ بھارت، چین اور جاپان جیسے ممالک میں بھی توانائی کی بچت کیلئے ‘ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (ڈی ایس ٹی)’ رائج نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور امریکن اکیڈمی آف اسکیپ سمیت شعبہ صحت کے بعض اداروں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ گھڑیوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کے بجائے اسے ویسا ہی رکھیں کیونکہ اسٹینڈرڈ ٹائم ہی انسان کی قدرتی سائیکل اور سورج کے ساتھ بہتر رہتا ہے۔



