Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

کرم کے معاملے پر گرینڈ جرگے میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کردیے

کوہاٹ(نیوز ڈیسک)ضلع کرم کے معاملے پر کوہاٹ گرینڈ جرگے میں فریقین نے امن معاہدے پر معاہدے پر دستخط کردیے، کئی روز سے جاری ضلع کرم گرینڈ جرگہ با لآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں کرم کی صورتحال پر کمشنر کوہاٹ معتصم بااللہ کی قیادت میں 3 ہفتوں سے جاری رہنے والا امن گرینڈ جرگہ فریقین کے درمیان معاہدے کے بعد اختتام پذیر ہو گیا جبکہ دونوں فریقین نے باہمی مشاورت سے 14 نکاتی امن معاہدے پر دستخط کر دیے۔

معاہدے سے جرگہ ممبران میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اس ہونے والے امن گرینڈ جرگے سے ضلع کرم میں پائیدار امن آئے گا، دونوں فریقین نے انتہائی باریک بینی سے معاہدے کو پڑھ کر دستخط کیے۔

جرگہ ممبر ملک سید اصغر کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے ہوگئے اور تحفظات دور ہوگئے ہیں، دونوں فریق اپیکس کیمٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے، فریقین کے درمیان معاہدے کااعلان پشاور گورنرہاؤس میں ہوگا۔

جرگہ رکن ملک ثواب خان نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں، دونوں فریقین کی جانب سے 45 ،45 افراد نے دستخط کیے ہیں، فریقین 14نکات پر مشتمل معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں، معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان سیز فائر کا فیصلہ ہوا ہے، فریقین مورچے ختم اور اسلحہ جمع کرائیں گے۔
جرگہ رکن کا مزید کہنا ہے کہ راستے کھولنے اور قیام امن کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حکومت کے حوالےکیا جائے گا، امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور بڑا اسلحہ حکومتی تحویل میں دیا جائے گا، فریقین کی جانب سے بنائے گئے مورچے ختم کیے جائیں گے۔

کمشنر کوہاٹ کا کہنا ہے کہ کرم مذاکرات فریقین کے درمیان کامیاب ہوگئے ہیں، تین دستخط رہتے ہیں، باقی دستخط ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ترجمان صوبائی حکومت بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بنکرز کی مسماری اور بھاری اسلحہ کی حوالیگی پر دونوں فریقین متفق ہوگئے ہیں، امن معاہدے کے دستخط پر اہلیانِ کرم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، امن معاہدے سے کرم میں امن اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا، امن معاہدے پر دستخط سے معمولات زندگی جلد مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ ایک فریق کی جانب سے چند دن پہلے دستخط ہو گئے تھے جبکہ دوسرے فریق نے آج دستخط کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ ضلع کُرم میں قیام امن کے لیے بیٹھنے والا گرینڈ جرگہ گزشتہ روز بھی امن معاہدے پر نہیں پہنچ سکا تھا، لوئر کرم کے 2 نمائندوں کی عدم شرکت کے باعث متحارب فریقین کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ منگل تک امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے تاہم گزشتہ روز بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ لوئر کرم کے سنیوں کی نمائندگی کرنے والے جرگے کے 2 ارکان اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔

بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ اپر کرم کی جانب سے پہلے ہی معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں جبکہ دونوں فریقین نے معاہدے کے اہم نکات پر بھی اتفاق کیا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ باضابطہ معاہدے پر دستخط محض رسمی کارروائی ہے، جسے آج (بدھ) دونوں فریقین کی ملاقات کے بعد انجام دیا جائے گا۔

کُرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود نے بتایا تھا کہ لوئر کرم کے نمائندوں میں سے ایک سابق سینیٹر راشد احمد خان قریبی رشتہ دار کی موت کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔

عہدیدار نے کہا تھا کہ اپر کُرم کی جانب سے پہلے ہی کرم امن معاہدے پر دستخط کیے جاچکے ہیں، دونوں فریق معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آج صبح 11 بجے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے جرگے کے رکن ملک سعید اصغر نے تصدیق کی تھی کہ وہ پہلے ہی امن معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں لیکن چونکہ دوسرا فریق منگل کو مکمل طور پر موجود نہیں تھا، لہٰذا وہ بدھ کو دوبارہ ملاقات کریں گے۔

اس سے ایک روز قبل بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ معاہدے کے بعد دونوں فریقین کو اپنے ہتھیار واپس کرنا ہوں گے اور اپنے بنکرز کو مسمار کرنا ہوگا جس کے بعد پاراچنار جانے والی سڑکیں کھول دی جائیں گی۔

ضلع کو صوبے کے باقی حصوں سے ملانے والی مرکزی سڑک کئی ہفتوں سے بند ہے جس کے نتیجے میں خوردنی اشیا اور دیگر اجناس کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

اگرچہ حکومت نے اس علاقے میں امدادی سامان ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچایا جبکہ ایدھی ٹرسٹ اور دیگر مخیر حضرات نے بھی مدد فراہم کی، لیکن ملک کے باقی حصوں سے کٹے ہوئے لوگوں کی حالت اب بھی سنگین ہے۔

مزید برآں پاراچنار پریس کلب کے باہر سڑکوں کی بندش کے خلاف دھرنا سردی کے باوجود جاری ہے۔

گزشتہ روز دھرنے کے دوران امن شاعری کا ایک سیشن بھی منعقد کیا گیا جہاں شعرا نے امن کے حوالے سے اپنے اشعار پیش کیے، سڑکوں کی بندش کے خلاف سلطان، گوسر اور بگن کے علاقوں میں بھی مظاہرے جاری رہے۔
مزیدپڑھیں:ایپل آئی فون 16 سیریز کا سستا ترین فون متعارف کرانے کیلئے تیار

یہ بھی پڑھیں