Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

دنیا کے وہ شہر جہاں سردیوں میں 24 گھنٹے، دنوں یا ہفتوں تک سورج نہیں نکلتا

آئیں، آج ہم آپ کو ان شہروں سے ملواتے ہیں جہاں سردیوں کا مطلب اندھیری راتوں کا طویل سلسلہ ہے۔موسم سرما کچھ شہروں کے لیے نہ صرف سرد ہوا اور برف باری لاتا ہے بلکہ ایک عجیب و غریب مظہر بھی پیش کرتا ہے، جہاں سورج کئی دنوں یا ہفتوں تک طلوع ہی نہیں ہوتا۔اس انوکھے قدرتی منظر کو ”پولر نائٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس دوران شہر چاند، ستاروں اور برقی روشنیوں کے سہارے جی رہے ہوتے ہیں، اور یوں لگتا ہے کہ سورج ایک طویل چھٹی پر روانہ ہو گیا ہو۔

بیرو (الاسکا)
الاسکا کا یہ قصبہ دنیا کے ان منفرد علاقوں میں شامل ہے جہاں نومبر کے وسط سے جنوری کے آخر تک سورج دکھائی نہیں دیتا۔ افق کے نیچے چھپے سورج کی غیر موجودگی میں بیرو کے مکین برقی روشنیوں کا استعمال کرتے ہیں اور مختلف تقریبات کے ذریعے شہر کی رونق بحال رکھتے ہیں۔ یہاں کے باسی اس تاریکی کے عادی ہو چکے ہیں، اور سردیوں کے یہ لمحات ان کے لیے زندگی کا معمول بن چکے ہیں۔

ٹرامسو (ناروے)
ناروے کا مشہور شہر ٹرامسو سردیوں میں ایک منفرد کہانی سناتا ہے، جہاں نومبر کے آخر سے جنوری کے وسط تک سورج طلوع نہیں ہوتا۔ اس دوران شہر ایک خوابناک سنہری روشنی سے جگمگاتا ہے، جو غروب آفتاب کی جھلک کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی معمول کے مطابق گزارتے ہیں اور تاریکی کو تخلیقی طور پر جینے کا فن سیکھ چکے ہیں۔

سوالبارڈ (ناروے)
ناروے کا یہ دور دراز جزیرہ سردیوں میں ایک عجوبہ بن جاتا ہے۔ نومبر کے وسط سے جنوری کے آخر تک یہاں سورج غائب رہتا ہے، اور پورا خطہ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے۔ چاندنی کی روشنی میں نہاتے برفیلے مناظر فوٹوگرافی کے شوقین افراد کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، اور یوں سوالبارڈ ان لمحوں میں دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔

مرمانسک ( روس)
آرکٹک سرکل کے سب سے بڑے شہر مرمانسک میں سردیوں کے دن اور بھی منفرد ہوتے ہیں۔ دسمبر کے اوائل سے جنوری کے اوائل تک یہاں سورج کا نام و نشان نہیں ملتا۔ لیکن یہ اندھیرا یہاں کے باسیوں کے لیے کسی مایوسی کا باعث نہیں بنتا۔ بلکہ وہ اس وقت کو جشن منانے، ثقافتی تہواروں کے انعقاد، اور خاص کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہ تمام شہر اور ان کے نظارے، قدرتی حیرت انگیز مناظر رب کریم کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سردیوں کی یہ طویل راتیں ان شہروں کے لیے صرف اندھیرا نہیں بلکہ ایک الگ زندگی کا تجربہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں