Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

بلوچستان: ضلع قلات میں مسافر بس پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی

قلات (ویب ڈیسک)بلوچستان کے ضلع قلات میں نامعلوم مسلح افراد نے کراچی سے کوئٹہ جانے والی مسافر بس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد شہید اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں تین مسافر شہید اور سات زخمی ہوئے ہیں۔

زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔


زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال قلات منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

سیکیورٹی فورسز، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے میں مسلح افراد نے 9 مسافروں کو اغوا کے بعد قتل کر دیا تھا۔

ترجمان شاہد رند کے مطابق جمعرات کی شام ان افراد کو مختلف بسوں سے اغوا کیا گیا تھا جب کہ ایک اور سرکاری افسر نوید عالم کے مطابق ”ان کی لاشیں رات کے وقت پہاڑی علاقے سے برآمد ہوئیں، جن پر گولیوں کے نشانات تھے۔“

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ”فتنۂ ہندستان کی بزدلانہ دہشتگردی“ قرار دیا ہے، ایک اصطلاح جو بلوچستان میں بھارت کی پشت پناہی سے سرگرم دہشتگرد عناصر کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ بیگناہ اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشتگرد اس بزدلانہ حملے کی بھاری قیمت چکائیں گے۔“ حکومت اور سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔“

انہوں نے شہداء کے لیے دعا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کے ساتھ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اقدام قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ “ بیگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا حصہ ہے، لیکن قوم کے تعاون سے ہم ان بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگردوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گے۔“

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسے سفاکانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عناصر کا خاتمہ ملک میں امن و ترقی کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے اس دہشتگردی کو سنگین جرم قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت ”فیصلہ کن اور موثر کارروائی کر کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔“

مارچ میں گوادر کے ضلع میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ کو بند کر کے کم از کم 5 افراد کو قتل کر دیا تھا۔

ان مسلح افراد نے کلمت کے علاقے میں، جو پسنی اور اورماڑہ کے درمیان واقع ہے، کراچی جانے والی مسافر بس کو روکا، مسافروں کو نیچے اتارا اور شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ان میں سے متعدد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
مزید پڑھیں:حمیرا کو قتل کیا گیا ہوگا، والدین کا پہلا انٹرویو، متعدد حقائق سے پردہ اٹھادیا

یہ بھی پڑھیں