Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرز کی تقرریاں روک دیں

پشاور(نیوز ڈیسک)پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرز کی تقرریاں روک دیں، عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں عمر ایوب اور شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کیخلاف درخواستوں کی سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی۔

بیرسٹر گوہر خان نے عدالت کو بتایا کہ 2 درخواستیں دائر کی ہیں، ایک عمر ایوب کی اور دوسری شبلی فراز کی ہے، عمر ایوب اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور شبلی فراز سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تھے۔

بیرسٹر گوہر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے عمر ایوب اور چیئرمین سینیٹ نے شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرکے ان کی سیٹیں خالی قرار دی ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں کو نا اہل کیا، 31 جولائی کو انسداد دہشتگری عدالت نے درخواست گزاروں اور دیگر پی ٹی آئی ممبران کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ آئینی ہے، اسمبلی رول 39 کے تحت اپوزیشن لیڈر بنتا ہے، جب کوئی ممبر قومی اسمبلی بنتا ہے تو پھر الیکشن کمیشن کا کام ختم ہو جاتا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اس حوالے سے فیصلہ موجود ہے کہ الیکشن کمیشن کسی ممبر کو نا اہل قرار نہیں سکتا، 9 مئی افسوس ناک واقعہ تھا، جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہون نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے این اے ون چترال کے عبدالطیف کو بھی نااہل قرار دیا تھا، الیکشن کمیشن نے اظہر صدیق کیس کا غلط حوالہ دیکر ان کو نااہل قرار دیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے 180 سیٹیں جیتی، پارلیمنٹ میں 90 سیٹوں کے ساتھ گئے، اب 77 نشستیں رہ گئی ہیں، ہمیں عمر ایوب پر فخر ہے کہ اس کو 3 کروڑ لوگوں نے ووٹ دیا ہے، اب حکومت کسی دوسری پارٹی کا اپوزیشن لیڈر لانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے ریفرنس نہیں بھیجا، اور الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا، عدالت حکم دے کہ مزید کارروائی نہ کی جائے۔

جسٹس سید ارشد علی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کل تک ہم آپ کو حکم امتناع دیتے ہیں، عدالت نے سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری بھی روک دی۔

عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 اگست تک جواب طلب کرلیا۔
مزیدپڑھیں:بانی سے ملاقات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ، اسپیکر کی پھر مذاکرات کی پیشکش

یہ بھی پڑھیں