Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستان میں طلاق کی شرح ؛حیران کن رپورٹ سامنے آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ہمارے ہاں ہونے والی طلاقوں میں اکثر جو وجوہات سامنے آتے ہیں وہ معاشرتی اور معاشی مسائل سے جڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہونے کے باوجود یہ شرح دنیا کے مقابلے میں کم ہے

کم شرح طلاق والے ملکوں میں کونسے عوامل کارفرما ہیں؟

دنیا میں طلاق کی کم ترین شرح والے ممالک پر نگاہ دوڑائی جائے تو اس میں انڈیا میں 0.1 ، ویت نام،سری لنکااور پیرو میں 0.2، ساوتھ افریقہ 0.4،مالٹا اور گوئٹے مالا میں 0.6، وینزویلا اور آئرلینڈ میں 0.7جبکہ ہنگری میں0.8فیصد ہے۔
یہ شرح ہر ہزار شادی شدہ جوڑوں کی ترجمانی کرتی ہے۔سن 2022ء میں ہندوستان دنیا میں سب سے کم طلاق کی شرح رکھنے والا ملک تھا۔ کسی بھی ملک میں کم شرح طلاق کے لئے کسی ایک وجہ کو حتمی نہیں جانا جاسکتا اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

دنیا میں کن ممالک میں طلاق کی شرح سب سے بلند ہے؟

زیادہ شرح والے ممالک میں مالدیو، کزکستان، روس، جیورجیا، لیتھونیا، امریکہ، برلاس، چین، کیوبا، فن لیند، سویڈن،ڈینمارک ، یوکرائن اور کینیڈا شامل ہیں۔ اعدادوشمار کے حساب سے مالدیو بلند ترین شرح رکھنے والا ملک ہے اور اس کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں جیسے وہاں طلاق کا پروسس بلکل آسان ہے اور قدرے سستا ہے۔خملڈووا، لکسمبرگ،برلاس، لیتھونیا، سویڈن ، یوکرین ، برطانیہ اور فن لینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اس کی شرح کئی زیادہ ہے۔اعدادو شمار سے پتہ چلتاہے کہ طلاق کی شرح شمالی یورپ اور روسی فیڈیشن میں زیادہ جبکہ دوسرے حصوں میں کم ہے۔سب سے زیاد ہ شرح ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈاور لکسمبرگ میں ہے۔

معاشی خود مختاری نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کی شرح کم ہے؟

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستان کے صوبہ پنجاب میں طلاق کی شرح 34فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں رواں برس راولپنڈی کی عدالت میں خلع کے کیسسز میں ریکارڈ اضافہ ہوا جہاں ڈسٹرکٹ کورٹ میں گھریلو ناچاقی پہ 4,980 طلاق کے کیس فائل ہوئے۔ تاحال ڈسٹرکٹ کورٹ میں 26,980 کیسز ٹرائل میں ہونے کے باوجود نئے فائل ہونے والے مقدمات میں 1,170 خلع کے لئے خواتین کی جانب سے دائر کئے گئے۔ایک سروے کے ذریعے یہ بات سامنے آئی کہ طلاق کے زیادہ کیسز بیرون ملک مقیم شادی کرنے والوں کی جانب سے دائر ہوئے ۔شادیوں کے ٹوٹنے کے پیچھے کئی عوامل درپیش ہوتے ہیں جن میں برداشت کی کمی، رابطے میں تعطل اور غیر ازدواجی تعلقات شامل ہیں
گاؤں میں شہروں کی نسبت طلاق کا تناسب کم کیوں؟

دیکھا جائے تو خواتین ابھی بھی پاکستان میں سماجی دباؤ اور معاشی خود مختاری نہ ہونے کے باعث ایسی شادیوں کو چلانے پر مجبور ہیں جو نہ تو ان کی مرضی سے ہوئیں اور نہ ہی ان کی مرضی سے ختم ہوسکتی ہیں۔جبکہ اس کے مقابلے میں شہروں میں محتاط سماجی میل جول ، معاشی خودمختاری اور کسی حد تک تعلیم کی وجہ سے لوگ طلاق کے حوالے سے زیادہ محتاط نہیں ہوتے۔گاؤں اور دیہاتوں میں روایتی انداز اور سوچ کی بنا پر رشتے استوار کئے جاتے ہیں جہاں لڑکی لڑکے کی پسند ناپسند کو خاندانی روایات کی نسبت ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچاسی فیصد سے زیادہ شادیاں خاندان کی مرضی سے کی جاتی ہیں اور صرف پانچ فیصد لوگ پسند کی شادی کرتے ہیں۔

کیا پاکستان میں واقعی طلاق کی شرح میں خوفناک اضافہ ہو ا ہے؟

اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ بدلتے ہوئے تناظر میں پاکستان کے اندر طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ رواں برس ہونے والے ایک گیلپ سروے میں یہ سوا ل کیا گیا کے گزشتہ چھ ماہ میں کسی قریبی کو طلاق ہوئی ہے یا اس کے بارے میں سنا ہے تو صرف اکیس فیصد لوگوں کا جواب ہاں میں تھا۔سندھ میں 2020میں سات سو فیصد اضافے کی رپورٹس آئیں۔

پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں کی بات کی جائے توطلاق کی شرح سے متعلق کوئی ٹھوس اعداد و شمار کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے شادیاں اس وقت ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں لیکن خواتین کی معاشی و سماجی حیثیت ان کے لئے وینٹی لیٹر کا کام کر رہی ہے ۔ اگر معاشرے کی فلاح کو مدنظر رکھا جائے تو پھر وسیع بنیادوں پر شعور اور آگاہی کے ساتھ خواتین کو سماجی دھارے میں شامل، ان کی خودمختاری کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔

مزیدپڑھیں:ڈی جی FIA کا اہلکاروں کو نوکری سے برخاستی کا سلسلہ جاری، مزید 9 اہلکار فارغ، تعداد 25 ہوگئی

یہ بھی پڑھیں