کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان کی نئی ایئرلائن ایئر کراچی کا باضابطہ افتتاح ہوگیا ، یہ ایئرلائن 42 شراکت داروں کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے، افتتاحی تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں پی آئی اے کے سی ای او عامر حیات، ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن ندیر شفیق، مختلف ممالک کے سفارت کار، شیئر ہولڈرز اور بورڈ آف ڈائریکٹرز شامل تھے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے اولڈ ایئرپورٹ پر پاکستان کی نئی نجی ایئرلائن ایئر کراچی کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی، جس کے ساتھ ہی ملکی ہوا بازی کے شعبے میں ایک نئے ادارے کی باضابطہ شمولیت ہوگئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکریٹری ڈیفنس لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی کا کہنا تھا کہ ’ ہم پاکستان کو اُس مقام تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا خواب ہمارے بانی رہنماؤں نے دیکھا تھا۔‘‘ ایک ایئر لائن شروع کرنا نہایت مشکل اور تکنیکی عمل ہے، کچھ ایئر لائنز آئیں لیکن چل نہ سکیں، مگر کچھ آج بھی کامیابی سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔‘‘
انہوں نے ایئر کراچی اور پی آئی اے انجینئرنگ ڈویژن کے درمیان شراکت داری کو خوش آئند قرار دیا اور حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
تقریب میں چیئرمین ایئر کراچی حنیف گوہر نے کہا کہ یہ ایئرلائن 42 کاروباری شراکت داروں کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے، جو کراچی کی شناخت کو دوبارہ اجاگر کرنے کے عزم کی علامت ہے۔
ایئرلائن کے قیام کا خواب 2006 میں شروع ہوا تھا، اور طویل جدوجہد کے بعد آج یہ خواب حقیقت بن گیا ہے۔
حنیف گوہر نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے وژن اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایئر کراچی کا آغاز ملکی معیشت کے استحکام اور مقامی صنعتوں کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایئر کراچی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کو رواں سال فروری میں ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ (RPT) لائسنس کے لیے درخواست دی تھی، جس کے اجرا کا فیصلہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
ایئر لائن کے قیام کے لیے ابتدائی 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جب کہ ہر شیئرہولڈر نے 5 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔
ایئر کراچی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کے طور پر سابق ایئر وائس مارشل (ر) عمران کو تعینات کیا گیا ہے، جب کہ ابتدائی مرحلے میں تین طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے۔
ایئر کراچی کے نمایاں سرمایہ کاروں میں عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، ایس ایم تنویر، بشیر جان محمد، خالد تواب، زبیر طفیل، اور حمزہ تبانی شامل ہیں۔



