کراچی (نیوز ڈیسک)انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کراچی میں دہشت گردی کے ایک انتہائی خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کئی ہفتوں پر محیط ایک پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن کے بعد بروقت اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی۔
تفصیلات کے مطابق پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مصدقہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے دو ہزار کلوگرام سے زائد تباہ کن دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا، جسے بعد ازاں شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بے شمار قیمتی جانیں بچ گئیں۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسر نے ایک اہم پریس کانفرنس میں بتایا کہ کئی دن اور راتوں کی مسلسل محنت کے بعد ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، جس سے تفتیش کے دوران مزید معلومات حاصل ہوئیں اور گذشتہ رات دو مزید دہشت گردوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش اور حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اس مقصد کے لیے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران انسانی اور تکنیکی ذرائع سے مسلسل نگرانی کی گئی اور کارروائی کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا تاکہ عوام میں خوف و ہراس نہ پھیلے۔ کارروائی کے دوران بوبی ٹریپس اور ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
برآمد شدہ مواد میں 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز شامل ہیں جن میں یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد موجود تھا، جو دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا۔
تحقیقات میں شواہد سامنے آئے ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا اور یہ نیٹ ورک بھارتی مفادات کے تحت کام کرنے والی پراکسی تنظیموں سے منسلک ہے۔ شواہد کے مطابق اس نیٹ ورک کے روابط بشیر زیب، بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے ملتے ہیں، جبکہ بھارتی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ مقامی سہولت کار معمولی مالی فوائد کے بدلے دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں اور رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے باعث کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی ناگزیر ہو چکی ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق دھماکہ خیز مواد کی سپلائی چین توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے، جبکہ یوریا اور دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال کے خلاف قوانین کے سخت نفاذ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ دہشت گرد منصوبے میں ملوث تمام عناصر کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
مزیدپڑھیں:جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اجلاس سے بائیکاٹ ، وفاقی و اے جے کے وزراء کی سخت برہمی، مذاکرات کی اپیل


