اسلام آباد (رضوان عباسی سے)حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کرنے کی خواہش پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے مذاکرات کو مشروط کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ مذاکرات اسی صورت میں ممکن ہوں گے جب ان کے بنیادی مطالبات تسلیم کیے جائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کو سیاسی مذاکرات کا مکمل اختیار حاصل ہے، تاہم مذاکرات کے آغاز کے لیے پہلی اور بنیادی شرط اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے محمود خان اچکزئی کی تقرری کے نوٹیفکیشن کا اجرا قرار دیا گیا ہے۔
تحریک کی جانب سے 1973 کے آئین کو اس کی اصل اور غیر مسخ شدہ شکل میں بحال کرنے کی شرط بھی عائد کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔
ذرائع کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان بانی تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی حکومت کے سامنے رکھے گی۔ شفاف اور خودمختار الیکشن کمیشن کے قیام اور آئندہ عام انتخابات کے واضح تعین کو بھی مذاکرات کی اہم شرائط میں شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے لچک اور سنجیدہ پیشرفت کا مظاہرہ کیا گیا تو محمود خان اچکزئی حکومت سے مذاکرات کریں گے۔ بانی چیئرمین کی جانب سے بھی محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کے لیے گرین سگنل دے دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مثبت پیشرفت کی صورت میں تحریک تحفظ آئین پاکستان مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے پرامید ہے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی جا سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:جنگلی ہاتھی فٹبال کھیلنے میدان میں آگیا، ویڈیو وائرل
