Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

اوورسیز پاکستانیوں کے لئے بڑی خوشخبری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے 9 دسمبر 2025 کو ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے، جس کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو دو اسکیموں کے تحت تین سال تک پرانی استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے ای سی سی اجلاس کے بعد جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منظوری وزارتِ تجارت کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر دی گئی، جس کے تحت گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں ترامیم کی منظوری دی گئی ہے اور صرف ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کو برقرار رکھا گیا ہے۔

گاڑیاں درآمد کرنے کی قابلِ اجازت مدت کو دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا گیا ہے، جبکہ درآمد شدہ گاڑیاں ایک سال تک قابلِ منتقلی نہیں ہوں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وزارتِ قانون کابینہ کے فیصلے کے مطابق ایس آر او کی توثیق کرے گی، اسے وزارتِ تجارت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 24 اکتوبر 2025 کو ہونے والے ای سی سی اجلاس میں سمری پر غور کیا گیا تھا اور وزارتِ تجارت کو ہدایت دی گئی تھی کہ بین الوزارتی مشاورت کے بعد تجویز کو دوبارہ حتمی فیصلے کے لیے پیش کیا جائے۔

ان ہدایات کی روشنی میں ایک بین الوزارتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، وزارتِ صنعت و پیداوار/انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی)، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی کے حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا، جس میں بنیادی طور پر دو نکات پر توجہ مرکوز رہی:

(i) کون سی اسکیمیں برقرار رکھی جائیں۔
(ii) برقرار رکھی جانے والی اسکیموں کی شرائط کیا ہوں۔

وزارتِ تجارت اور ایف بی آر نے ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کو برقرار رکھنے کی حمایت کی، جبکہ وزارتِ صنعت و پیداوار/ای ڈی بی نے گفٹ اور پرسنل بیگیج اسکیم کے خاتمے کی تجویز دی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حاصل کرنے والے فواد سرور کون ہیں، کیا کرتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں