Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

بجلی سستی: صنعتی کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی، فی یونٹ نرخ نمایاں طور پر کم

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں انڈسٹری سے منسلک کراس سبسڈی میں اب تک 123 ارب روپے کی نمایاں کمی آچکی ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق 2024 میں صنعتی صارفین پر عائد کراس سبسڈی کو 225 ارب روپے سے کم کر کے 102 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس سے قبل صنعتی کراس سبسڈی 8.9 روپے فی یونٹ بنتی تھی، جو اب کم ہو کر 4.02 روپے فی یونٹ رہ گئی ہے۔ ان اقدامات کے باعث صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت 62.99 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) سے کم ہو کر 46.31 روپے فی یونٹ تک آ گئی ہے۔

اسی طرح قومی سطح پر بھی بجلی کی اوسط قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو 53.04 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 42.27 روپے فی یونٹ ہو گئی ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق ناکارہ پاور پلانٹس کی بندش اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور نئے معاہدوں کے نتیجے میں بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی ممکن ہوئی ہے۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ صنعتوں اور زراعت کے لیے اضافی کھپت بجلی پیکج کے تحت 22.98 روپے فی یونٹ بجلی تین سال کے لیے فراہم کی جا رہی ہے، جس سے پیداواری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

مزید بتایا گیا کہ حکومت سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے جامع منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔ سرکلر ڈیٹ ختم ہونے کی صورت میں فی یونٹ 3.23 روپے کا سرچارج بھی ختم ہو جائے گا، جس سے صارفین کو مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق آف گرڈ سولر توانائی کے فروغ کے باعث پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2021 میں 11 ملین سے بڑھ کر 22 ملین ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے شعبے پر اضافی مالی دباؤ آیا ہے۔ اس وقت کمرشل اور بلک سپلائی صارفین صنعتوں کے مقابلے میں زیادہ کراس سبسڈی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کے ٹیرف حکومت کی مجموعی سماجی و معاشی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں اور محض وصولی کا ذریعہ نہیں، تاہم صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کے بوجھ کو مزید کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے، جن میں سبسڈی اصلاحات، قرضوں کی ری فنانسنگ اور پہلے سے نافذ شدہ ٹیرف میں کمی کے اقدامات کا تسلسل شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں