Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

بجلی کے بل میں 10,000 روپے تک کا اضافہ: صارفین کے لیے بڑی خبر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت کی جانب سے نئے نیٹ بلنگ قوانین متعارف کرانے کے بعد سولر صارفین کے لیے بجلی کے بل بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سولر سسٹم کے رجحان کو کنٹرول کرنے اور بجلی کمپنیوں کے مالی نقصانات کو پورا کرنے کے لیے موجودہ نیٹ میٹرنگ سسٹم کو ختم کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ اس کی جگہ ایک نیا اور سخت ‘نیٹ بلنگ’ ماڈل لایا جا رہا ہے، جس سے سولر صارفین کے ماہانہ بلوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔

موجودہ نیٹ میٹرنگ کے تحت صارفین جتنی بجلی گرڈ کو دیتے ہیں، اتنے ہی یونٹ اپنے استعمال کردہ یونٹس سے منہا کر لیتے ہیں۔ اس طرح یونٹ کے بدلے یونٹ کی ایڈجسٹمنٹ سے بل اکثر صفر ہو جاتا ہے تاہم، مجوزہ نیٹ بلنگ ماڈل میں یہ طریقہ کار تبدیل کر دیا جائے گا۔

صارف گرڈ سے جو بجلی لے گا، اس کا مکمل ریٹ (تقریباً 50 سے 60 روپے فی یونٹ) ادا کرے گا، صارف جو بجلی گرڈ کو فراہم کرے گا، اس کا معاوضہ انتہائی کم (ممکنہ طور پر 10 سے 15 روپے فی یونٹ) دیا جائے گا۔

اس سے سولر صارفین کی بچت بری طرح متاثر ہوگی۔ مثال کے طور پر ایک صارف جو ماہانہ 300 یونٹ پیدا کر کے اتنے ہی استعمال کرتا ہے اور اب تک صفر بل دے رہا ہے، نئے نظام کے تحت اسے فرق کی مد میں 10,000 روپے تک کا بل ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے سولر صارفین کی بچت بری طرح متاثر ہوگی۔ مثال کے طور پر ایک صارف جو ماہانہ 300 یونٹ پیدا کر کے اتنے ہی استعمال کرتا ہے اور اب تک صفر بل دے رہا ہے، نئے نظام کے تحت اسے فرق کی مد میں 10,000 روپے تک کا بل ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے گرڈ کے دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور حکومت کو مالی نقصان ہو رہا ہے۔

دوسری جانب لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے نئے سولر میٹرز کی تنصیب روک دی ہے اور وفاقی وزارتِ توانائی کی جانب سے نئی پالیسی گائیڈ لائنز کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں :پاکستانیوں کے لیے فیملی ویزا! جرمنی کا بڑا اعلان

یہ بھی پڑھیں