اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لیک ہونے والی ای میلز سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکی کاروباری شخصیت Jeffrey Epstein اور ان کے قریبی ساتھی Boris Nikolic کے درمیان 2013 میں پاکستان میں پولیو مہم سے متعلق رابطے اور ملاقاتیں ہوئیں۔ ای میلز کے مطابق ایپسٹین نے Peshawar اور بعد ازاں Islamabad میں قیام کے دوران قبائلی علاقوں اور سرحدی خطوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور پولیو ویکسینیشن سے متعلق صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔
ای میل میں دعویٰ کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں پولیو مہم کو درپیش رکاوٹوں میں مذہبی بنیادوں پر مزاحمت نسبتاً کم ہے جبکہ اصل مسائل دباؤ، مقامی سیاست اور مالی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایپسٹین کے مطابق اس دوران Taliban کے ایک سینئر نمائندے سے بھی فون پر رابطہ ہوا تاکہ پولیو کے بارے میں ان کا مؤقف جانا جا سکے۔
ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ فنڈنگ مسئلہ نہیں اور سابق Federally Administered Tribal Areas کے لیے United Arab Emirates کی حکومت کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی بات کی جا رہی تھی، جس کے تحت تین سال کے لیے پولیو مہمات کی مکمل مالی معاونت متوقع تھی۔ مزید یہ کہ Khyber Pakhtunkhwa کے محکمہ صحت کے حکام سے بھی ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایک اور ای میل میں بورس نیکولک نے لکھا کہ “بل” نے پولیو کے لیے ضرورت سے زیادہ فنڈز اکٹھے کر لیے ہیں، جس کا اشارہ عالمی سطح پر صحت کے منصوبوں میں سرگرم Bill Gates کی جانب سمجھا جا رہا ہے۔
ای میلز کے مطابق 2013 کے انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام تک فیصلوں میں تاخیر کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ ان دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستان میں پولیو مہمات، فنڈنگ اور غیر ملکی روابط پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، تاہم سرکاری سطح پر تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
مزیدپڑھیں:وفاقی محتسب کا تاریخی فیصلہ، حاضر سروس وائس چانسلر کو ملازمت سے برطرف کرنےکا حکم جاری کر دیا گیا




