Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پارلیمنٹ میں احتجاج کے دوران کھانے پینے کی مشکلات،رکن اسمبلی مرزا آفریدی پھٹ پڑے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مرزا آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں احتجاج کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اراکین کو بنیادی سہولیات تک میسر نہ تھیں اور کئی گھنٹوں تک کھانے پینے کا مناسب انتظام نہیں ہو سکا۔

مرزا آفریدی کے مطابق پہلے دن جو سامان ساتھ لائے تھے، اسی سے گزارا کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پانی دستیاب نہ ہونے کے باعث کمرے میں موجود پانی سے چائے بنائی گئی اور خشک دودھ استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد اپنی تکلیف بیان کرنا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ صورتحال غیر معمولی تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض مواقع پر کھانے کا سامان بھی روک لیا گیا۔ ان کے بقول بیمار اراکین کے لیے لایا گیا سالن بھی واپس لے لیا گیا جبکہ کچھ روٹیاں ہی باقی رہ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض اراکین بھی موجود تھے اور ادویات تک فوری رسائی نہیں تھی۔

مرزا آفریدی نے کہا کہ تمام صورتحال کے باوجود اصل تشویش عمران خان کی صحت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ خان صاحب کی طبیعت ہے اور اراکین کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت گزر جاتا ہے اور مشکلات بھی ختم ہو جاتی ہیں، تاہم بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں موجود اراکین کے لیے کم از کم بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی یا احتجاجی صورتحال میں انسانی ضروریات متاثر نہ ہوں۔


مزیدپڑھیں:عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ، بینائی میں نمایاں بہتری

یہ بھی پڑھیں