اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے سیف سٹی سرویلنس سسٹم میں ماضی میں اسرائیلی نژاد ویڈیو اینالٹکس سافٹ ویئر استعمال کیا جاتا رہا، تاہم یہ سسٹم اب فعال نہیں ہے اور 2022 کے بعد سے اس کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق BriefCam نامی ویڈیو اینالٹکس سافٹ ویئر جون 2021 سے اکتوبر 2022 تک اسلام آباد کے سیف سٹی کیمرا نیٹ ورک کا حصہ رہا۔ اس سافٹ ویئر کو شہر بھر میں نصب نگرانی کے کیمروں سے حاصل ہونے والی بڑی مقدار میں ویڈیو ریکارڈنگ کا تجزیہ کرنے اور مخصوص واقعات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سافٹ ویئر دراصل جاپانی کمپنی کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا، کیونکہ بعد ازاں اس پلیٹ فارم کو جاپان کی کمپنی Canon نے خرید کر اپنی ذیلی کمپنی Milestone کے سسٹم کے ساتھ ضم کر دیا تھا۔ اسی بنیاد پر اسے سرکاری منصوبے کے تحت سیف سٹی پروگرام میں شامل کیا گیا تھا۔
سکیورٹی حکام کے مطابق BriefCam ایک جدید ویڈیو اینالٹکس پلیٹ فارم ہے جو مصنوعی ذہانت اور میٹا ڈیٹا ایکسٹریکشن کے ذریعے ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل ویڈیو ریکارڈنگ کو مختصر وقت میں سرچ اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی مخصوص شخص، گاڑی یا واقعے کی تلاش اور مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے۔
تاہم حکام نے واضح کیا کہ اس سافٹ ویئر کا لائسنس اکتوبر 2022 میں ختم ہو گیا تھا جس کے بعد اسے سیف سٹی سسٹم سے ہٹا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے یہ سافٹ ویئر کسی بھی شکل میں استعمال نہیں کیا جا رہا۔
حکام نے حالیہ میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ مذکورہ سافٹ ویئر 2022 کے بعد بھی اسلام آباد کے سیف سٹی سسٹم میں استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نگرانی کا نظام مکمل طور پر دوسرے پلیٹ فارمز اور مقامی انتظامات کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

