Search
Close this search box.
جمعرات ,23 جولائی ,2026ء

متعدد اضلاع میں صرف ایک ووٹر کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن، منفرد پولنگ اسکیم نے سب کو حیران کر دیا

اسلام آباد (رضوان عباسی) آزاد جموں و کشمیر کے مہاجرین کے سب سے اہم اور وسیع حلقے LA-1 جموں کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور پولنگ اسکیم نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ حلقہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کے تین بڑے صوبوں—پنجاب، سندھ اور بلوچستان—کے درجنوں اضلاع پر مشتمل ہے، جہاں انتخابی انتظامات اور ووٹرز کا پھیلاؤ ایک منفرد اور دلچسپ تصویر پیش کرتا ہے۔

مہاجرین کے حلقہ LA-1 جموں میں مجموعی طور پر 19 ہزار 8 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سندھ کے 19 اضلاع پر محیط اس حلقے میں 869 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن کے لیے 23 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ اس صوبے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں صرف ایک ووٹر کے لیے پورا پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

سندھ کے اضلاع لاڑکانہ، جامشورو، بارخان اور نوشہرو فیروز میں صرف ایک، ایک ووٹر رجسٹرڈ ہے اور ان کے لیے الگ الگ ایک، ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ دیگر اضلاع میں سکھر میں 14 ووٹرز کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن، جبکہ گھوٹکی میں دو پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جہاں ایک پر 4 اور دوسرے پر 67 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ خیرپور میں 17 ووٹرز کے لیے 2، شہید بینظیر آباد میں 6 ووٹرز کے لیے 1، حیدرآباد میں 51 ووٹرز کے لیے 1، میرپورخاص میں 61 ووٹرز کے لیے 1، ٹنڈو الہ یار میں 70 ووٹرز کے لیے 2، بدین میں 41 ووٹرز کے لیے 1، جبکہ سانگھڑ میں صرف 2 خواتین ووٹرز کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح عمرکوٹ میں 145 ووٹرز کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن ہے۔

کراچی ڈویژن میں کراچی ایسٹ سب سے آگے ہے، جہاں 244 ووٹرز کے لیے 2 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جبکہ کراچی ساؤتھ میں 73 ووٹرز کے لیے 1، کراچی ویسٹ میں 24 ووٹرز کے لیے 1 اور کراچی سینٹرل میں 40 ووٹرز کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح ضلع سبی، جو بلوچستان سے تعلق رکھنے کے باوجود سندھ زون کے تحت آتا ہے، وہاں 6 ووٹرز (5 مرد، ایک خاتون) کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب کے 26 اضلاع مہاجرین کے حلقہ LA-1 جموں کا اصل پاور ہاؤس ہیں، جہاں ووٹرز کی بڑی تعداد آباد ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 18 پولنگ اسٹیشنوں پر 5,965 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جبکہ ضلع جھنگ میں 20 پولنگ اسٹیشنوں پر 5,708 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جو انتخابی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔

اسی طرح ضلع سرگودھا میں 6 پولنگ اسٹیشنوں پر 2,153 ووٹرز موجود ہیں، جبکہ ضلع خوشاب میں حیران کن طور پر 60 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ضلع بہاولپور میں 246 ووٹرز کے لیے 3 پولنگ اسٹیشن، ضلع بہاولنگر میں 6 ووٹرز کے لیے ایک، ضلع رحیم یار خان میں 63 ووٹرز کے لیے ایک، ضلع پاکپتن میں 115 ووٹرز کے لیے 2، ضلع ملتان میں 66 ووٹرز کے لیے ایک، ضلع وہاڑی میں 96 ووٹرز کے لیے 4، ضلع لیہ میں 10 ووٹرز کے لیے ایک، ضلع مظفرگڑھ میں 4 ووٹرز کے لیے ایک، اور ضلع کوٹ ادو میں 8 ووٹرز کے لیے 2 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

ضلع فیصل آباد میں 157 ووٹرز کے لیے 5، ضلع چنیوٹ میں 407 ووٹرز کے لیے 4، ضلع ڈیرہ غازی خان میں صرف ایک ووٹر کے لیے ایک، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 97 ووٹرز کے لیے ایک، ضلع بھکر میں 8 ووٹرز کے لیے 4، ضلع میانوالی میں 7 ووٹرز کے لیے 2، ننکانہ صاحب میں 56 ووٹرز کے لیے 3، ضلع شیخوپورہ میں 489 ووٹرز کے لیے 5، قصور میں 40 ووٹرز کے لیے 2، ضلع خانیوال میں 582 ووٹرز کے لیے 4، ضلع ساہیوال میں 42 ووٹرز کے لیے 2، ضلع راجن پور میں 45 ووٹرز کے لیے 2، جبکہ ضلع اوکاڑا میں 9 ووٹرز کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

اسی طرح بلوچستان کے تین اہم اضلاع، کوئٹہ، مستونگ اور ژوب، پر مشتمل علاقے میں مجموعی طور پر 178 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن کے لیے 3 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، تاکہ دور دراز علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجر بھی اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہیں۔

مزید پڑھیں۔حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ کردیا

یہ بھی پڑھیں