پاکستان امن مذاکرات پیشکش عالمی توجہ کا مرکز بن گئی
پاکستان امن مذاکرات پیشکش ایک اہم سفارتی قدم کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کا مقصد ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان ان ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بیان منگل کے روز جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی حمایت کرتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات میں کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
یہ پاکستان امن مذاکرات پیشکش اسی صورت میں آگے بڑھے گی جب امریکہ اور ایران اس پر رضامند ہوں گے۔ پاکستان خود کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات اتوار سے شروع ہوئے تھے۔
تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ یہ حملے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیے گئے۔
اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ایران نے امریکی اڈوں والے ممالک اور توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی مؤثر طور پر بند کر دیا، جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
پاکستان امن مذاکرات پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے اور فوری سفارتی حل کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔




