Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سی ایس ایس امتحان میں کشمیری خواتین کی شاندار کامیابی، مرد امیدوار پیچھے رہ گئے

فیڈرل پبلک سروس کمیشن (Federal Public Service Commission) نے سی ایس ایس 2025 کے حتمی نتائج جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق اس بار بھی امتحان کا معیار انتہائی سخت رہا اور کامیابی کا تناسب انتہائی کم ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر سے 12 ہزار 792 امیدواروں نے تحریری امتحان دیا، لیکن صرف 355 امیدوار ہی تحریری مرحلہ پاس کر سکے۔ اس کے بعد انٹرویو اور فائنل اسسمنٹ کے مرحلے سے گزر کر صرف 170 امیدوار مختلف وفاقی سروس گروپس میں منتخب ہو سکے، جن میں 84 مرد اور 86 خواتین شامل ہیں۔ مجموعی کامیابی کا تناسب 2.67 فیصد رہا، جو اس امتحان کی غیر معمولی سختی اور مقابلے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

نتائج میں سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ آزاد جموں و کشمیر سے چار خواتین امیدواروں نے شاندار کامیابی حاصل کی، جبکہ اسی خطے سے کوئی بھی مرد امیدوار حتمی فہرست میں جگہ نہ بنا سکا۔ اس صورتحال کو تعلیمی حلقوں میں ایک غیر معمولی رجحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کامیاب امیدواروں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

انیقہ فاطمہ کا تعلق ضلع کوٹلی سے ہے۔ ان کا تعلق ایک علمی و سماجی پس منظر سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے سی ایس ایس امتحان میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے پاکستان کسٹمز سروس میں اسسٹنٹ کے عہدے کے لیے جگہ بنائی۔ ان کی کامیابی کو مقامی سطح پر ایک بڑی تعلیمی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

’’چھتوں پر بھاگنے، کودنے اور لٹکنے پر پابندی عائد‘‘ پنجاب میں پتنگ بازی کے نئے قواعد

ایمن اسد مظفرآباد کی رہائشی ہیں اور ان کی کہانی سب سے زیادہ متاثر کن سمجھی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ ایک یتیم طالبہ ہیں اور ان کی والدہ ایک اسکول ٹیچر ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی بیٹی کی تعلیم جاری رکھی۔ ایمن اسد نے اپنی محنت سے ان لینڈ ریونیو سروس میں اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے کے لیے جگہ حاصل کی، جسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ولیجہ نثار جہلم ویلی سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان کی تعلیمی کارکردگی اور مستقل مزاجی کو ان کی کامیابی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے علاقے کے لیے ایک اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔

صبا شاہ روم کا تعلق راولاکوٹ سے ہے۔ انہوں نے بھی سخت مقابلے کے بعد آفس مینجمنٹ گروپ میں جگہ بنائی ہے۔ ان کی کامیابی کو تعلیمی محنت اور تسلسل کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اہلِ علاقہ نے اسے نوجوان لڑکیوں کے لیے حوصلہ افزا مثال کہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں