Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

قاضی فائز عیسیٰ کو عمران خان کے کیسز کیوں نہیں سننے چاہئیں؟؟ قانونی ماہرین کی آرا سامنے آگئیں

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قانونی ماہرین نے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیسز کی سماعت کے حوالے سے اپنی آراء‌دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات کے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر پابندی لگا دی چونکہ جسٹس عیسیٰ نے ذاتی حیثیت میں وزیر اعظم عمران کیخلاف درخواست دائر کی تھی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سابق وزیر اعظم سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنامناسب نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس نے ملک کے انتخابی عمل میں مداخلت کرکے تحریک انصاف کو نقصان پہنچایا ۔ اس حقیقت کے باوجود کہ بلے کی علامت کے فیصلے کے خلاف نظرثانی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے پہلے وضاحتی خط لکھ کر فیصلے کا دفاع کیا۔برطانوی ہائی کمشنر اور بعد ازاں دوران کھلی عدالت میں فیصلے کا دفاع کیا۔ایک اور کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کئی بار عدالت میں بغیر تحقیقات 9 مئی کے واقعے کا حوالہ دیا ۔ان کے الفاظ کے چناؤ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی پر تنقید بھی کر رہے ہیں اوراس کےخلاف فیصلہ دے رہے ہیں۔9 مئی کے ٹرائل کے اختتام سے قبل ہی پی ٹی آئی پر غیر ضروری پی ٹی آئی کو بدنام کرنیوالے تبصرے، نیب ترمیمی کیس میں لائیو سٹریمنگ سے انکار،دیگر تمام مقدمات زیر 184(3)عوامی اہمیت کے معاملات براہ راست نشر کئے جاتے ہیں صرف عمران خان کیس کو لائیوسٹریمنگ سننے سے انکار سوالیہ نشان، جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے عمران خان کی بنی گالہ کی منی ٹریل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔
2020 میں جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے عمران خان کو بطور وزیراعظم ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔اثاثے ظاہر نہ کرنے اور ٹیکس چوری پر سپریم کورٹ میں درخواست 2021 میں جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے عمران خان کو لائیو ٹی وی شو میں مدعو کیا۔۔ 2021 میں فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے عمران خان کو خط لکھا کہ ریاست مدینہ کے نام پر سرمایہ کاری بند کرو

،قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس عمران خان کی حکومت کے دوران دائر کیا گیا تھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف تعصب ریکارڈ پر چل رہا ہے تو مناسب، منصفانہ اور غیر جانبداری کیلئے قاضی فائز عیسیٰ کو عمران خان، پی ٹی آئی کے مقدمات کی سماعت نہیں سننی چاہیے
بیوروکریٹس کو لگژری گھر دینے کی تیاریاں،29 گھروں کی تعمیر کیلئے ایک ارب 64 کروڑ 45 لاکھ منظور

یہ بھی پڑھیں