Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء کے درمیان خوفناک تصادم ، فائرنگ ،25طلباء زخمی، 6 کی حالت تشویشناک

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قائداعظم یونیورسٹی میں طلبا کے دوگروپوں میں تصادم، فائرنگ ، مکوں لاتوں کا آزادانہ استعمال، تصادم میں متعدد طلبا زخمی ہو گئے جن میں ایک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے،زخمی طالبعلم کوپمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔جبکہ قائداعظم یونیورسٹی 20 اکتوبر تک بند کردی تفصیلات کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی میں طلبہ گروپس کے درمیان تصادم، 25 سے زائد طلبہ زخمی ،

تفصیلات کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی میں پیر کے روز طلبہ تنظیموں کے درمیان شدید تصادم ہوا جس میں سندھی اور پنجابی طلبہ نے مبینہ طور پر پشتون طلبہ پر حملہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اس تصادم کے نتیجے میں 28 طلبہ زخمی جبکہ 6 طلبہ کے حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔طلبہ تنظیموں کے درمیان اس قسم کے واقعات قائداعظم یونیورسٹی میں نسلی اور علاقائی تناؤ کی نشاندہی کرتے ہیں، جس پر قابو پانے کے لیے حکام کو سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

تصادم یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہوا،یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل میں طلبا تنظیم کی جانب سے آگ بھی لگائی گئی،قائد اعظم یونیورسٹی انتظامیہ نے بوائز ہاسٹلز خالی کروانے کا فیصلہ کرلیا،انتظامیہ کاکہنا ہے کہ ہاسٹلز ایس سی او سمٹ کے باعث بوائز ہاسٹلز خالی کروائے جارہے ہیں،تمام طلبا کو کل سے ہاسٹلز چھوڑنے کی ہدایت کر دی گئی ہے،

انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ 20 اکتوبر تک بوائز ہاسٹلز بند رہیں گے۔ دوسری جانب فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے یونیورسٹی پہنچ گئیں۔پولیس کے مطابق تصادم یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہوا، ایک ہاسٹل میں طلبہ گروپ کی جانب سے آگ بھی لگائی گئی جس سے دو کمروں میں موجود سامان جل گیا۔’فائر بریگیڈ کے عملے نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا جبکہ پولیس نے دونوں گروپوں سے وابستہ طلبہ کو منتشر کر دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ’جھگڑا گذشتہ ماہ ہونے والے جھگڑے کا ہی تسلسل ہے۔

دونوں گروپوں کی جانب سے یونیورسٹی میں تقاریب منعقد کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی جھگڑے کی وجہ بنی۔‘ترجمان قائداعظم یونیورسٹی نے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ دونوں گروپوں کے طلبہ نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور ڈنڈوں کا بھی استعمال کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’طلبہ کی جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ بھی کی گئی، صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی مدد طلب کی گئی۔‘

’تصادم میں زخمی ہونے والے طلبہ کو یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر سے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ زخمی طلبہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘یاد رہے کہ گذشتہ ماہ بھی ان دو گروپوں کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا جس میں کم سے کم 25 طلبہ زخمی ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں