اسلام آباد ( اوصاف نیوز) ایس پی اسلام آباد عدیل اکبر کی خود کشی کے معاملے میں انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی کیونکہ گولی ان کے سینے میں لگی اور کہا جارہا ہے کہ ایس پی عدیل اکبر نے ایک ملازم کے اسلحے سے خو د کو گولی ماری اسی وجہ سے ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کر کےتفتیش شروع کر دی ہے۔ اہم انکشافات کی توقع ہے نیز ادھر دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پمز ہسپتال پہنچ گئے۔ اسلام آباد میں تعینات افسران شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔
ذرائع کے مطابق خود کشی کرنے سے قبل ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر ٹیلی فون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ٹیلی فون کال کے بعداپنے ایک ملازم سے پستول لے کرخود کو گولی ماری۔ ایس پی عدیل اکبر مسلسل رات دن کی ڈیوٹیوں سے اکتا چکے تھے۔
اپنی میڈیکل رپورٹ افسران کو بھجوائی مگر چھٹی پھر بھی نہ ملی۔ جس کے باعث وہ انتہائی سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔وفاقی پولیس کے ایس پی کی خود کشی کا معاملہ۔ ذرائع کے مطابق عدیل اکبر کا تعلق ضلع گجرات سے تھا۔ ایس پی عدیل اکبر کی ایک سالہ ننھی بیٹی بھی ہے۔ عدیل اکبر کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے 46ویں کامن سے تھا۔
عدیل اکبر سی ایس ایس میں اپنے بیچ کے ٹاپر تھے۔ عدیل اکبر کو تین روز قبل ڈینگی رپورٹ ہوا تھا۔ ڈینگی کے باوجود عدیل اکبر ہمہ وقت ڈیوٹی پر موجود رہے۔ عدیل اکبر نے متعدد بار بیماری کی وجہ سے چھٹی لیے رجوع کیا تھا۔اے ایس پی عدیل اکبر اسلام آباد پولیس میں بطور ایس پی آئی نائن تعینات تھے۔ عدیل اکبر کے سٹاف سے ایک اہلکار کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔
مزید پڑھیں:زلزلے کے شدید جھٹکے
