لاہور (ویب ڈیسک) بھارتی فلمساز مہیش بھٹ اکثر اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کھل کر بات کرتے رہے ہیں، انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے بیٹیوں کے نام مسلمان لڑکیوں کے نام پر کیوں رکھے۔
انٹرویو میں مہیش بھٹ نے اپنے والدین کے مذاہب کے بارے میں انکشاف کیا تھا، انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے والد نانا بھائی بھٹ ایک گجراتی برہمن اور ماں شیریں محمد علی ایک مسلمان تھیں۔
مہیش بھٹ نے بتایا کہ ان کے والد نے ‘کبھی سیکولر ہونے کا ڈرامہ نہیں کیا’۔
اپنے والدین کے بارے میں بات کرتے ہوئے مہیش نے پرانے انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘میری والدہ شیعہ مسلمان تھیں جب کہ میرے والد کٹر ہندو تھے’۔
ہدایت کار نے بتایا تھا کہ ‘بہت دلچسپ بات ہے کہ دونوں (والد اور والدہ) نے اپنے انفرادی عقائد کو برقرار رکھا وہ محبت میں دیوانے تھے لیکن دونوں میں سے کوئی بھی اس جھگڑے میں نہیں پڑا کہ دوسرا اس کا طریقہ اپنائے’۔
مہیش بھٹ نے مزید بتایا تھا کہ میری والدہ ہمیشہ ماتھے پر بڑی سی بندیا لگاتی اور ساڑھی پہنتی تھیں، انہیں اس قسم کی چیز پسند تھی لیکن میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ کچھ چھپا رہی تھی۔
ہدایت کار نے کہا کہ 1992 کے فسادات کے دوران والدہ کو لگتا تھا کہ ان کی اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے کی حیثیت شاید ہماری زندگیوں میں پریشانیوں کا باعث بنے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میری والدہ اس وقت بھی پریشان ہوئی جب میں نے اپنی بیٹیوں کے مسلمانوں والے نام عالیہ اور شاہین رکھے۔
مہیش بھٹ کا کہنا تھا کہ بیٹیوں کے یہ نام اس لیے رکھے تھے کیوں کہ یہ ان کی دوسری بیوی اور دونوں بچیوں کے ماں سونی رزدان کو پسند تھے۔
مزیدپڑھیں :پٹنہ، خان سر کوچنگ سینٹر کوسیل کردیاگیا