لاس اینجلس(نیوز ڈیسک) ایپل کمپنی آج اپنے نئے آئی فونز کی سیریز متعارف کرانے جا رہی ہے، ایسے وقت میں جب عالمی تجارتی جنگ نے کمپنی کے سالانہ ایونٹ کو تجسس کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں اضافے کی قیاس آرائیوں سے بھی گھیر رکھا ہے۔
یہ نئے آئی فون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی ٹیرف بڑھانے کے بعد پہلی بار پیش کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک صنعتوں کو واپس امریکا لانا ہے، لیکن اس پالیسی نے ایپل کے سی ای او ٹم کُک کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔
اگر ایپل اپنے 2007 سے چلے آرہے نام رکھنے کے طریقے پر قائم رہا تو نئے ماڈلز کو ”آئی فون 17“ کہا جائے گا، تاہم کمپنی نے حال ہی میں اپنے آئی او ایس سسٹم کے نام میں تبدیلی کی ہے۔
جون میں ڈویلپرز کانفرنس کے دوران ایپل نے اعلان کیا تھا کہ نیا آپریٹنگ سسٹم ”iOS 26“ کہلائے گا، جو کہ آنے والے سال کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔
امریکا کی خواہش کے باوجود نئے آئی فونز اب بھی چین اور بھارت میں ہی تیار کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ اور کمرس سیکریٹری ہاورڈ لٹ نِک نے بارہا زور دیا ہے کہ آئی فون امریکا میں تیار ہوں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ نہ صرف برسوں پر محیط عمل ہوگا بلکہ اس سے قیمتیں دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہیں۔
ایپل کے سربراہ ٹم کُک نے صدر ٹرمپ کو خوش رکھنے کے لیے امریکا میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا، جسے بعد میں بڑھا کر 600 ارب ڈالر کردیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ کو 24 قیراط سونے کے بیس پر کھڑے ایک مجسمے کی شکل میں تحفہ بھی دیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ایپل سب سے سخت ٹیرف سے محفوظ رہا، تاہم امریکا میں درآمد کیے جانے والے آئی فونز پر اب بھی 25 فیصد ڈیوٹی عائد ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار ایپل اپنے منافع کے مارجن کو بچانے کے لیے پانچ سال بعد پہلی مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ 2020 سے کمپنی نے بیسک آئی فون کی قیمت 800 ڈالر اور سب سے مہنگے ماڈل کی قیمت 1200 ڈالر رکھی تھی، لیکن اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے ماڈلز میں 50 سے 100 ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں ہوگا۔
مزیدپڑھیں:رانا ثنااللہ سینیٹر منتخب