Search
Close this search box.
منگل ,07 جولائی ,2026ء

استعمال شدہ آئی فون خریدنے کے نقصانات، فیصلہ کرنے سے پہلے یہ حقائق جان لیں

اسلام آباد: استعمال شدہ آئی فون خریدنا بظاہر ایک سستا اور فائدہ مند سودا محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر مکمل جانچ پڑتال نہ کی جائے تو یہی خریداری بعد میں ہزاروں روپے کے اضافی اخراجات اور پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

مہنگی قیمتوں کے باعث بہت سے صارفین سیکنڈ ہینڈ یا استعمال شدہ آئی فون خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ پرانے آئی فونز اب بھی کئی اینڈرائیڈ فونز کے مقابلے میں بہتر کارکردگی فراہم کرتے ہیں، تاہم ان کے ساتھ کئی ایسے مسائل بھی جڑے ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

آئی او ایس اپ ڈیٹس کی محدود سہولت

پرانے آئی فونز میں مستقبل کی آئی او ایس اپ ڈیٹس محدود ہو سکتی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی فیچرز صرف جدید ماڈلز میں دستیاب ہوتے ہیں، جس کے باعث پرانے فونز کئی نئی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔

پرانا ہارڈویئر اور محدود فیچرز

ہر نئے آئی فون کے ساتھ ایپل بیٹری، کیمرہ، پروسیسر اور دیگر فیچرز میں بہتری لاتا ہے۔ استعمال شدہ ماڈلز میں نہ صرف ہارڈویئر پرانا ہوتا ہے بلکہ کئی جدید سہولیات جیسے بہتر ڈسپلے، نئے کیمرہ فیچرز اور اضافی بٹن بھی موجود نہیں ہوتے۔

بیٹری کی کمزور حالت

استعمال شدہ آئی فون خریدتے وقت سب سے زیادہ توجہ بیٹری ہیلتھ پر دینی چاہیے۔ زیادہ استعمال ہونے والے فونز کی بیٹری جلد ختم ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں نئی بیٹری لگوانے پر بھی اچھی خاصی رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے۔

وارنٹی اور مرمت کا خرچہ

زیادہ تر استعمال شدہ آئی فونز کی سرکاری وارنٹی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ اگر فون میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اسکرین، بیٹری یا دیگر اصلی پرزوں کی تبدیلی کافی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

جعلی پرزوں اور فراڈ کا خدشہ

سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں ایسے فون بھی فروخت ہوتے ہیں جن میں غیر معیاری یا جعلی پرزے لگائے گئے ہوتے ہیں۔ اسی لیے خریداری سے پہلے فون کا IMEI نمبر، سیریل نمبر، بیٹری ہیلتھ، آئی کلاؤڈ لاک اور تمام فیچرز اچھی طرح چیک کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کا مشورہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بجٹ محدود ہو تو اپنی استطاعت کے مطابق سب سے نیا آئی فون ماڈل خریدنے کی کوشش کریں۔ خریداری سے پہلے فون کی مکمل جانچ کریں، بیٹری ہیلتھ ضرور دیکھیں اور صرف قابلِ اعتماد فروخت کنندہ سے ہی فون خریدیں تاکہ بعد میں اضافی اخراجات اور مشکلات سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں