بیجنگ: شدید گرمی کی لہر کے دوران چین روف ٹاپ رین کولنگ سسٹم دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ رہائشی عمارتوں کی چھتوں سے خارج ہونے والی باریک پانی کی پھوار کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین اس جدید شہری کولنگ ٹیکنالوجی کو مستقبل کا حل قرار دے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ جدید نظام چین کے شمالی صوبے شانشی کے شہر یون چینگ میں نصب کیا گیا ہے، جہاں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر خصوصی ہائی پریشر مسٹنگ سسٹم لگائے گئے ہیں۔ یہ نظام نہایت باریک پانی کی بوندیں فضا میں خارج کرتا ہے، جس سے عمارتوں کے اردگرد کا درجہ حرارت تقریباً 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین روف ٹاپ رین کولنگ سسٹم تبخیری ٹھنڈک (Evaporative Cooling) کے اصول پر کام کرتا ہے۔ جب پانی کی باریک بوندیں گرم ہوا کے ساتھ مل کر بخارات میں تبدیل ہوتی ہیں تو وہ اردگرد کی حرارت جذب کر لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ماحول نسبتاً ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے۔ یہ عمل انسانی جسم پر پسینہ خشک ہونے کے قدرتی عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام صرف گرم اور خشک موسم میں مؤثر نتائج دیتا ہے کیونکہ پانی کی بوندیں زمین تک پہنچنے سے پہلے بخارات بن جاتی ہیں۔ اگر درجہ حرارت مناسب نہ ہو تو یہ بوندیں نیچے گر کر معمولی بارش جیسا منظر بھی پیدا کر سکتی ہیں، اسی وجہ سے بعض ماہرین اسے “روف ٹاپ مسٹ” کہنا زیادہ درست سمجھتے ہیں۔
یہ منفرد ٹیکنالوجی حالیہ دنوں ریڈٹ، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گئی ہے۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ یورپ اور شمالی امریکہ جیسے خطوں میں شدید گرمی کے باوجود اس طرح کا نظام وسیع پیمانے پر کیوں متعارف نہیں کرایا جا رہا۔
اگرچہ یہ کولنگ سسٹم بظاہر مؤثر دکھائی دیتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی کارکردگی، پانی کے استعمال، دیکھ بھال اور نوزلز میں معدنیات جمع ہونے جیسے پہلوؤں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود چین کے مختلف شہروں میں اس نظام کی تنصیب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات کم کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز پر سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔

