نئی دہلی(نیوزڈیسک)بھارتی دارالحکومت دہلی کے علاقے روہنی میں قائم سرکاری شلٹر ہوم میں پراسرار طور پر اب تک 27 یتیم بچےجان کی بازی ہار گئے ۔ افسوسناک واقعہ کی تحقیقات کا آغآز کردیا ۔تفصیلات کے مطابق دلی کے علاقے روہنی میں قائم سرکاری شیلٹر ہوم میں خصوصی بچے موجود ہیںجہاں یتیم خانہ بچوں کی پراسرار اموات کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا۔
آشا کرن نامی یتیم خانے میں گزشتہ 20 دنوں کے دوران 13 بچے موت کی آغوش میں چلے گئے جس کی تاحال وجوہات سامنے نہ آسکیں ،اس سے قبل رواں سال جنوری سے اب تک اموات کی تعداد 27 سے تجاوز کرچکی ہے۔دوسری جانب دلی کی وزیر آتشی کی جانب سے اموات پر تحقیقات کا حکم دیدیا جبکہ نیشنل کمیشن برائے وومن کی جانب سے بھی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم تشکیل دے دی جو اموات کی وجوہات کا تعین کرنے شیلٹر ہوم پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ خصوصی بچوں کیلئے شیلٹر ہوم دلی حکومت کی سرپرستی میں چلایا جا رہا ہے، نیشنل کمیشن برائے وومن کی سربراہ ریکھا شرما کہتی ہیں کہ کئی سالوں سے دلی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والا آشا کرن شیلٹر ہوم نے امید وںکو توڑ دیا ۔ لوگ اس شیلٹر ہوم میں مر رہے ہیں اور دلی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دوسری جانب دلی کی وزیر آتشی کی جانب سے بچوں کی اموات کی تعداد پر اختلاف کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو 48 گھنٹوں میں تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ۔اپنے خط میں دلی کی وزیر نے جنوری سے اب تک 14 اموات کا تذکرہ کیا ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت چونکا دینے والی خبر آئی ہے، ہم اس قسم کی کوتاہیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔واضح رہے آشا کرن نامی شیلٹر ہوم کی بنیاد 1989 میں رکھی گئی تھی، جہاں 350 سے زائد افراد کی گنجائش موجود ہے۔
فیس لاک ،پاس ورڈ یا فنگر پرنٹس کے بجائے اب آئی فون کس ٹیکنالوجی سے ان لاک ہوں گے؟
