Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

پارلیمنٹ کوبرخاست کرنیکافیصلہ ،3ماہ کےاندر انتخابات،گرفتارسابقہ وزیراعظم کورہاکرنیکاحکم

ڈھاکا(ویب ڈیسک)عوام دباؤ اور طلبہ کے احتجاج پر بنگلادیش سے فرار ہونے والی شیخ حسینہ کے استعفیٰ کے بعد بنگلادیش کے حالات تبدیل ہوئے، وہیں اب آرمی چیف اور صدر بنگلہ دیش کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلادیش آرمی چیف جنرل وقار الزماں اور صدر سے ملاقات کے دوران جماعت اسلامی کے امیر و دیگر جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران بنگلادیش کی سابقہ وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کو جلد رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملاقات میں پارلیمنٹ کو برخاست کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ساتھ ہی 3 ماہ کے اندر بنگلادیش میں انتخابات کرانے کا بھی فیصلہ ہوا۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقارالزماں نے عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے طلبہ سے کہا ہے کہ تشدد ترک کردیں اور گھر واپس چلے جائیں۔ ان کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں گے، تمام تحفظات بھی دور کیے جائیں گے۔ آرمی چیف جلد ہی اساتذہ اور طلبا کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھیں گے۔

آرمی چیف جنرل وقار الزماں جلد ہی طلبا اور اساتذہ کے نمائندوں سے براہ راست بات چیت کریں گے۔

پیر کو ڈائریکٹوریٹ آف انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک سرکلر میں بتایا گیا کہ حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا آپریشن چھ گھنٹے کے لیے بند رہے گا۔

قبل ازیں، بنگلہ دیش کے معیاری وقت کے مطابق شام 4 بجے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے جنرل وقارالزماں نے کہا کہ عبوری حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے گی۔

جنرل وقارالزماں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بارآور مذاکرات اور اتفاقِ رائے کے نتیجے میں ہم عبوری حکومت کے قیام کے فیصلے تک پہنچے ہیں۔ اب ہم ملک کو لاحق سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے صدرِمملکت محمد شہاب الدین سے بات کریں گے۔

بنگلہ دیشی کے آرمی چیف نے طلبہ سے کہا کہ وہ تشدد ترک کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا گیا کہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے خلاف اُن کی تحریک کے دوران جو لوگ ریاستی اداروں کے ہاتھوں جان سے گئے ہیں ان کے حوالے سے انصاف کیا جائے گا۔

بنگلہ دیشی آرمی چیف نے اپنے خطاب میں قوم کو بتایا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے پروفیسر آصف نذرل سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک بیان تیار کریں جس میں طلبہ سے اپیل کی جائے کہ وہ تشدد ترک کردیں۔

جنرل وقارالزماں کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ نے استعفیٰ ے دیا ہے اور ملک چھوڑ گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے موقع پر عوامی لیگ کے ارکانِ اسمبلی بھی موجود تھے۔

مزیدپڑھیں :حسینہ واجد حکومت کے خاتمے کے پیچھے جماعت اسلامی کا ہاتھ ہے، بھارتی تجزیہ کار

یہ بھی پڑھیں