چین کا ایٹمی تنصیبات پر حملے سے خبردار کرنا اس وقت سامنے آیا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ یہ بیان چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں دیا۔
وانگ یی کی ملاقات عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ہوئی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خطے میں صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔
چین کا ایٹمی تنصیبات پر حملے سے خبردار کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے حملے بہت خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ اس سے خطے کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے فوری جنگ بندی پر زور دیا۔ ساتھ ہی مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
رپورٹس کے مطابق اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اب تک ایک ہزار تین سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جواب میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ ان حملوں میں اسرائیل کے ساتھ اردن اور عراق کے کچھ علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
چین کا ایٹمی تنصیبات پر حملے سے خبردار کرنا ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں سے بڑے بحران کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

