Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

اسرائیل کا مصنوعی ذہانت خفیہ نظام بے نقاب، ایرانی حکام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسرائیل کا مصنوعی ذہانت خفیہ نظام

اسرائیل کا مصنوعی ذہانت خفیہ نظام ایک نئی رپورٹ میں سامنے آگیا ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے ایک جدید نظام تیار کیا ہے۔ یہ نظام بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے اہم اہداف کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسرائیل کا مصنوعی ذہانت خفیہ نظام موساد اور یونٹ 8200 کی مشترکہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں ادارے سائبر اور خفیہ کارروائیوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں اسرائیل نے ایران کے ڈیجیٹل نظام تک رسائی حاصل کی۔ اس میں سکیورٹی نظام، ٹریفک کیمرے، ادائیگی نظام اور سرکاری ڈیٹا شامل تھا۔

یہ تمام معلومات بعد میں اسرائیل کا مصنوعی ذہانت خفیہ نظام کے ذریعے تجزیہ کی گئیں۔ اس سے اہداف کی فوری نشاندہی ممکن ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اس نظام کی بنیاد تقریباً پانچ سال پہلے رکھی گئی تھی۔ اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر حملے بڑھ رہے تھے۔

یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی سخت انٹرنیٹ پالیسی نے بالواسطہ مدد کی۔ مرکزی نظام بننے سے معلومات تک رسائی آسان ہوگئی۔

اس جدید نظام کی مدد سے اسرائیلی فوج تیزی سے کارروائی کر سکتی ہے۔ حتیٰ کہ دوران پرواز میزائل کا رخ بھی بدلا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اب تک 250 سے زائد ایرانی اعلیٰ حکام کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔

یہ بھی پڑھیں