Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے یو اے ای کی طاقت کے استعمال کی حمایت پر غور

آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے یو اے ای کی طاقت کے استعمال کی حمایت

آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے یو اے ای کی طاقت کے استعمال کی حمایت اس وقت اہم موضوع بن چکی ہے جب ایران جنگ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات امریکہ کی قیادت میں کوششوں کی حمایت پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یو اے ای اقوام متحدہ میں قرارداد لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس قرارداد کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے فوجی کارروائی کی اجازت حاصل کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یو اے ای ممکنہ فوجی کردار کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ اس میں سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی اور اتحادی ممالک کے ساتھ شامل ہونا شامل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔ حالیہ حملوں میں ایران کے بڑے اسٹیل کارخانوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کسی حتمی وقت کا اعلان نہیں کیا۔

امریکی صدر نے بھی کہا کہ فوجی کارروائیاں دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی معاہدے کی شرط ضروری نہیں۔

نیٹو کے ساتھ تعلقات میں بھی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکہ نے اتحادی ممالک کے رویے پر تنقید کی ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

خطے میں حملوں کا دائرہ بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل، خلیجی ممالک اور دیگر علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں۔

عالمی منڈیاں بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر بڑے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں