Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

ایران جنگی صورتحال: یومِ جمہوریہ پر ریلیاں، حملوں کے باوجود عوام سڑکوں پر

ایران جنگی صورتحال

ایران جنگی صورتحال کے دوران تہران میں ہزاروں افراد یومِ جمہوریہ منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ اجتماعات امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود منعقد ہوئے۔

صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ان ریلیوں میں شرکت کی۔ یہ دن 1979 کے ریفرنڈم کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

تقریبات کے چند گھنٹوں بعد تہران میں سابق امریکی سفارت خانے کے مقام پر فضائی حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس مقام کو علامتی اہمیت حاصل ہے۔

سرکاری میڈیا نے دھوئیں اور تباہی کی تصاویر نشر کیں۔ شہر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور مختلف مقامات پر چیک پوسٹس قائم کی گئیں۔

حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر موجود رہیں۔ ان کے مطابق ایران جنگی صورتحال میں عوامی موجودگی اہم ہے۔

حسن خمینی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے تک عوام کا متحرک رہنا ضروری ہے۔ مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

فوجی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا زمینی کارروائی کرتا ہے تو اسے شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔

حالیہ حملوں میں صنعتی تنصیبات، جوہری مراکز اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے معیشت اور عوامی زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ملک میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ بندش جاری ہے جس سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی افراد نے وی پی این کے استعمال میں دھوکہ دہی کی شکایات کی ہیں۔

حکام نے غیر قانونی انٹرنیٹ استعمال کرنے اور ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

تمام مشکلات کے باوجود حکومت عوامی حمایت اور کامیابی کے دعوے جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران جنگی صورتحال بدستور برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں