ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن محسن رضاعی نے کہا ہے کہ ایران اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پوری دنیا بھی اکٹھی ہو جائے تو اسے دوبارہ کھولنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ کسی بھی جہاز کو اس راستے سے گزرنے میں سات سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔ اس دوران جہاز داخل ہوتا ہے، موڑ لیتا ہے، تنگ ترین حصے سے گزرتا ہے اور پھر باہر نکلتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران سمجھتا ہے کہ اس کا مکمل کنٹرول برقرار رہ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں شامل ہے۔ یہاں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اس راستے سے تیل نہیں لیتا اور نہ ہی لے گا۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک کو تیل کی ضرورت ہے وہ امریکا سے حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ کچھ ممالک کو اسی راستے پر انحصار کرنا ہوگا۔
یہ آبنائے ہرمز بند کرنے کی وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورت حال سے عالمی تجارت اور توانائی کے شعبے پر اثر پڑ سکتا ہے۔


