ایران کا جوہری پروگرام ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں فرانس کے صدر Emmanuel Macron نے کہا ہے کہ فوجی کارروائی اس مسئلے کا حل نہیں۔
جنوبی کوریا کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ United States اور Israel کی جانب سے حملے ایران کا جوہری پروگرام ختم نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق اس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
میکرون نے زور دیا کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف سفارتکاری اور تکنیکی مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واضح فریم ورک نہ بنایا گیا تو بحران دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے Strait of Hormuz کو کھولنے کے لیے فوجی آپریشن کی تجویز کو بھی غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسا اقدام خطرناک اور وقت طلب ہو گا۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس جدید دفاعی صلاحیتیں، بیلسٹک میزائلز اور مضبوط ساحلی نظام موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی فوجی کارروائی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق میکرون کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپی ممالک ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات میں دیکھتے ہیں۔


