ایران افزودہ یورینیئم قبضہ منصوبہ نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جب اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکہ اس مواد پر قبضہ کرنے کے لیے خصوصی افواج بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ ماہرین نے اسے نہایت خطرناک اور پیچیدہ اقدام قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ طویل عرصے سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن توانائی کے لیے ہے اور وہ اسے ختم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
بین الاقوامی اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے، جو مزید بڑھ کر ہتھیار بنانے کے قابل ہو سکتا ہے۔
یہ مواد زیادہ تر زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ ہے، جن تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔ ان تنصیبات کو ماضی میں حملوں میں جزوی نقصان پہنچا، لیکن یورینیئم مکمل طور پر محفوظ رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زمینی کارروائی کی گئی تو امریکہ کو شدید لاجسٹک اور سیکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یورینیئم کو نکالنے کے بعد اس کی محفوظ منتقلی بھی ایک بڑا چیلنج ہو گی کیونکہ یہ مادہ کیمیائی طور پر خطرناک ہے۔
دوسری طرف، اگر اسے موقع پر تباہ کیا جائے تو ماحولیاتی نقصان اور تابکاری کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی کارروائی ایران کو سخت ردعمل دینے پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی مذاکرات اس مسئلے کا بہتر حل ہو سکتے ہیں، جہاں بین الاقوامی نگرانی میں یورینیئم کی افزودگی کم کی جا سکتی ہے۔


