Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

شرح سود میں کمی: کیا اب گاڑیوں کی قیمتیں بھی کم ہوجائینگی؟

کراچی(ویب ڈیسک )اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی نئی مانٹیری پالیسی کے اجرا کےساتھ شرح سود میں 2فیصد کمی کر دی ہے۔ نئی مانیٹری پالیسی کے مطابق شرح سود میں 200 بیسز پوائنٹ کمی کی گئی ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق شرح سود ساڑھے 19فیصد سے کم کرکے 17.5 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

اس نئی مانیٹری پالیسی کے نتیجے میں کم کی جانے والی شرح سود کا فائدہ معیشت کو ہوگا، اس حوالے سے امکان ہے کہ گاڑیوں کی خرید و فروخت بڑھ جائیگی۔

گزشتہ سال آٹو سیکٹر نے شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے شرح سود میں اضافے کے باعث گاڑیوں کی خرید نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی اور کمپنیز کو اپنے یونٹس بند کرنے پڑگئے تھے۔

اس حوالے سے آٹو مینیوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک سابق عہدیدار کا کہنا ہے کہ جب تک شرح سود 10 فیصد یا اس سے بھی کم نہیں ہوجاتا انہیں بہتری کے امکانات کم نظر آرہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ جب تک گاڑیاں خریدی نہیں جائیں گی تب تک انڈسٹری آگے نہیں بڑھ سکے گی، اور یہ تب ممکن ہوگا جب عام آدمی کی جیب اس کی اجازت دے گی۔

آٹو مینیوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق اس وقت اوسط آمدن کے شہری جو چھوٹی گاڑی خریدا کرتے تھے وہ گاڑی کی سلیب سے نکل چکے ہیں یا تو وہ پبلک ٹرانسپورٹ پرآگئے ہیں یا پھر موٹر سائیکل پر، اور اس وقت ماحول ایسا ہے کہ گاڑی کی پرانی یا نئی کمپنیز اپنی پراڈکٹس الیٹ کلاس کے لیے لانچ کر رہی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے تنخواہ دار طبقہ بینک کی طرف جاتا تھا اور قسطوں پر گاڑی لے لیتا تھا اب ماحوال یہ بن گیا ہے کہ شرح سود بڑھنے سے ایک گاڑی کی قیمت میں کم سے کم 10لاکھ روپے تک اضافہ ہوچکا ہے اور اس کے اثرات براہ راست محسوس بھی کیے جا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں :محکمہ موسمیات کی گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

یہ بھی پڑھیں