Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

گھربناناخواب بن گیا،اینٹوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

ملتان (نیوز ڈیسک) سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام کا آغاز تو ہو چکا ہے، تاہم تعمیراتی سامان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متاثرین کے لیے نئے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، گھروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اینٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران فی ٹرالی اینٹوں کی قیمت 35 ہزار روپے سے بڑھ کر 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے باعث نئے مکانات کی تعمیر تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔

ایک متاثرہ شہری نے بتایا، “اینٹوں کے دام بہت بڑھ گئے ہیں۔ پہلے ایک ٹرالی 35 ہزار کی ملتی تھی، اب 50 ہزار روپے میں مل رہی ہے، اسی لیے ہم پرانی اینٹیں دوبارہ استعمال کر رہے ہیں تاکہ کچھ خرچ بچایا جا سکے۔”

علاقے میں سینکڑوں خاندان اپنے تباہ شدہ گھروں کی تعمیرِ نو میں مصروف ہیں، مگر بھٹہ مالکان کی جانب سے قیمتوں میں خود ساختہ اضافے نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔

دوسری جانب بھٹہ مالکان کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ان کی مجبوری ہے، کیونکہ پیداواری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، کوئلے کی قیمت 9 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر 15 سے 16 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جس سے پیداواری لاگت میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی عبدالسمیع شیخ نے بتایا، “ہم نے بھٹہ ایسوسی ایشن سے کہا ہے کہ اینٹوں کے نرخ غیر ضروری طور پر نہ بڑھائے جائیں۔ آفات کے دوران منافع خوری کا رجحان عام ہو جاتا ہے، مگر ہم اس کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اینٹوں کی پیداوار مناسب مقدار میں موجود ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے۔
مزیدپڑھیں:والدہ پینے کے لیے پانی مانگتے مانگتے انتقال کر گئی تھیں، ارشد وارثی

یہ بھی پڑھیں