دبئی (اوصاف نیوز)پاکستانی مسافر ایک ایسی الجھن کا شکار ہیں، جہاں درست دستاویزات ہونے کے باوجود اُنہیں ویزا مسترد ہونے کی غیر واضح وجوہات کا سامنا ہے، جب کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان ویزا اجرا سے متعلق بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
پاکستان اس پابندی کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ یو اے ای اس کی تردید کرتا ہے۔قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ مبہم صورتحال پیشہ ور افراد، سیاحوں اور خاندانوں سب کے لیے منصوبوں کو متاثر کر رہی ہے، 28 سالہ مارکیٹنگ پروفیشنل ندیم کے لیے ایک منصوبہ بند چھٹیاں 2 مسلسل ویزا مسترد ہونے کے بعد کئی ماہ کی اذیت میں بدل گئیں۔
ندیم کے کیس کو سنبھالنے والی ٹریول ایجنسی نے بتایا کہ مسئلہ اس کی عمر ہے، اور اب ’40 سال سے کم‘ درخواست گزاروں کی زیادہ جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
اس کی پریشانی اس بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس سے لوگ دوچار ہیں، جب کہ یو اے ای کی جانب سے کسی باضابطہ پابندی سے انکار کے باوجود ویزا پراسیس مبہم اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ٹریول ایجنسیوں کے مطابق انفرادی درخواست گزاروں کی 80 فیصد تک درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں، جب کہ فیملی درخواست دہندگان کیلئے مواقع بہتر ہیں۔
مزید پڑھیں: طلاق کے 90 دن بارے عدالت کا بڑا فیصلہ



