لندن(کامرس ڈیسک)جی سیون اجلاس کی خبر پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی ،خام تیل کی سپلائی بہتر کرنے کیلئے جی سیون اجلاس کے اقدامات اثر انداز ہوگئے ۔ امریکی خام تیل 119 ڈالر کی بلند سطح کے بعد 86 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگیا،امریکی خام تیل 5.85 ڈالر کمی سے85.10 ڈالر فی بیرل تک گرگیا ، لندن برینٹ آئل بھی 119 ڈالر کی بلند سطح کے بعد اب 90 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگیا ۔ لندن برینٹ آئل 4.40 ڈالر سستا ہوکر 88.69 ڈالر فی بیرل تک گرگیا۔ دوسری جانب امریکا اسرائیل ایران جنگ اگر اسی طرح جاری رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت مزید بڑھے گی جس سے دنیا بھر کی معیشت کو جھٹکا لگے گا، پیٹرول کی قیمت نے شہریوں کو مالی مشکلات میں ڈال دیا، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد لوگوں کی مالی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔اس حوالے سے ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب جنگ نے موجودہ صورتحال میں تیل کی قیمتوں سے متعلق ہونے والے اضافے پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک لیٹر پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 84 روپے سے بڑھا کر 105 روپے 37 پیسے کر دی ہے جو غریب سے غریب موٹرسائیکل سوار کو بھی ہرصورت دینی ہے اس کے علاوہ اس میں امپورٹ ڈیوٹیز شامل کرلیں تو بات 125 سے 130 تک چلی جاتی ہے۔ خاقان نجیب نے بتایا کہ اس وقت برینٹ آئل 105 ڈالر ہے جبکہ صبح یہ 119 ڈالر پر تھا اس کے نیچے آنے کی وجہ یہ ہے کہ جی سی سی ممالک نے فیصلہ کیا کہ وہ اب اپنے اسٹریٹجک ریزرو استعمال کریں گے جس کے بعد برینٹ آئل کی قیمت میں کچھ استحکام آیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برینٹ آئل کی قیمت اگر 105 سے کم ہوکر 85 پر آجاتی ہے تو امید ہے کہ فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 25 سے 30 روپے کم ہوجائے گی، ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے کے بعد جب ٹرانسپورٹیشن بحال ہوگی تب کہیں جاکر حالات کچھ معمول پر آسکیں گے بشرطیکہ فوری جنگ بندی کی جائے اور اس سارے معاملے میں بھی کم ازکم ایک سے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ درکار ہے تاہم فی الحال ایسا کوئی اشارہ ملا نہیں اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا،ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اپنی زندگی بہت سادہ کرنا پڑے گی، توانائی کا کم سے کم استعمال کرنا ہوگا تاکہ صورتحال کسی حد تک قابو میں رہے۔ اس کے علاوہ کویت نے امریکا اسرائیل اور ایران جنگ کے تناظر میں تیل کی پیداوار میں حفظ ماتقدم کے تحت نمایاں کمی کا اعلان کر دیا، عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی اور ایرانی دھمکیوں کے پیش نظر کویت نے اپنی تیل کی پیداوار اور ریفائننگ میں احتیاطاً کمی کر دی ہے۔ اس حوالے سے کویت پٹرولیم کارپوریشن نے بتایا کہ یہ احتیاطی تدابیر کمپنی کی رسک مینجمنٹ اور کاروباری تسلسل کی حکمت عملی کا حصہ ہے، بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور تیل کی پیداوا میں اس کمی کا جائزہ لیا جائے گا۔ کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگی حالات کے بہتر ہونے پر تیل کی پیداوار کو فوری طور پر بحال کردیا جائے گا۔ ادھر کویتی حکومت نے اپنے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملکی ضروریات کے مطابق تیم موجود اور مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ملک بھر میں طے شدہ منصوبوں کے مطابق سپلائی جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی اڈّوں پر فضائی حملوں پر قطر نے گیس کی سپلائی روک دی ہے جبکہ دیگر عرب ممالک نے بھی پیٹرول کی ترسیل کو بہت محدود کردیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں واضح اشارہ دیدیا کہ آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہوسکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے اہلیہ ایمان اسد کو طلاق کا نوٹس بھیج دیا،تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر




