مسلمانوں کا لہو اتنا سستا کیوں ؟
سرینگر سے غزہ اور کے پی کے سے بلوچستان تک مسلمانوں کا لہو پانی سے سستا سمجھ کر بہایا جارہا ہے،عام لوگ تو دہشت گردی کا نشانہ بن ہی رہے ہیں،یہاں تو علماء کرام کو بھی چن چن کر مارا
سرینگر سے غزہ اور کے پی کے سے بلوچستان تک مسلمانوں کا لہو پانی سے سستا سمجھ کر بہایا جارہا ہے،عام لوگ تو دہشت گردی کا نشانہ بن ہی رہے ہیں،یہاں تو علماء کرام کو بھی چن چن کر مارا
(گزشتہ سے پیوستہ) جہیز ۔ حضرت فاطمہ الزہراہؓ کو اپنے میکے سے جو جہیز ملا اسکی کل تفصیل یہ تھی ، ایک پلنگ ، ایک بستر ، ایک چادر ، دو چکیاں اور ایک مشکیزہ۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ
اسلام میں سرور کائناتﷺ کے بعد جو چند نام سرفہرست آتے ہیں ان میں حضرت علیؓ ایک عنوان جلی ہیں جن سے علم و سخاوت اور فکرو شجاعت کی کتنی ہی روایتیں وابستہ ہیں۔نام، نسب، خاندان ۔ آپ کا نام
(گزشتہ سے پیوستہ) واضح رہے کہ اس وقت تک مکران اورپنجگور پر سندھیوں کی حکومت تھی پنجگور سے روانہ ہونے کے بعد محمد بن قاسم نے ارمن بیلہ کا محاصرہ کیا اسے بھی فتح کر لیا۔ بالاآخر آہستہ آہستہ آگے
اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں اپنے محبوبﷺ کے پیغام کو پھیلانے کے لئے سندھ کو اسلام کا دروازہ بنایا اور اس عظیم الشان کام کے لئے سترہ سالہ نوجوان جرنیل کو منتخب کیا۔ عالم اسلام کا عظیم جرنیل (سپہ سالار)
قرآن و حدیث کے مطالعہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق فضائل اتنی کثرت سے سامنے آتے ہیں کہ ان کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مال و دولت پاس رکھنے کی شئے ہی نہیں ،
ام المومنین حضرت عائشہ ؓکا لقب صدیقہ تھا۔ آنحضرتﷺ آپ کو بنت الصدیق کہہ کر یاد فرماتے تھے، آٹھویں پشت میں آپ کا نسب حضورﷺ کے نسب سے مل جاتا ہے، ولادت، کسی بھی مستند تاریخ میں حضرت عائشہ ؓکی
اللہ تعالی نے رمضان المبارک کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے`اس مہینے میں رحمت‘ مغفرت اور جہنم سے آزادی کو مسلمانوں کے لئے عام کر دیا جاتا ہے اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں وہ فائدے میں رہتے ہیں
اللہ تبارک و تعالیٰ جہاں عدل و انصاف اور صلہ رحمی کا حکم فر ماتا ہے۔ وہاں ظلم و زیادتی اور بے حیائی کے کاموں سے منع فرماتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلہ
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف جالندھری نے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ، قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن ، حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن ، پروفیسر ساجد میر