دین اسلام اور ا من و سلامتی
اسلام دنیا کا ایسا مذہب ہے جو انسانیت کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے جس نے تمام حقوق اس کی حیثیت کے مطابق رکھ دیئے،اسلام امن سلامتی و آشتی کا دین ہے جس میں کوئی جبر نہیں،اتنا آسان
اسلام دنیا کا ایسا مذہب ہے جو انسانیت کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے جس نے تمام حقوق اس کی حیثیت کے مطابق رکھ دیئے،اسلام امن سلامتی و آشتی کا دین ہے جس میں کوئی جبر نہیں،اتنا آسان
سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخوں کو تحفظ دینے کے لئے اسلام اور پاکستان دشمن عناصر پوری طرح متحرک ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے انہوں نے
حضرت عمر بن خطاب خلافت سنبھالنے کے بعد بیت المال میں آئے تو لوگوں سے پوچھا کہ حضرت ابوبکرؓ کیا، کیا کیا کرتے تھے، تو لوگوں نے بتایا کہ :’’وہ نماز سے فارغ ہو کر کھانے کا تھوڑا سا سامان
سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث زیر حراست گستاخوں کو تحفظ دینے کی کوششوں کے خلاف معاشرے کے تمام مکاتب فکر میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخوں کے خلاف جو
فلسطین کے مسلمانوں نے اقصیٰ کی آزادی کے لئے قربانیوں کی جو تاریخ مرتب کی ہے وہ بے مثال بھی ہے اور لازوال بھی، ہمیں شہداء فلسطین پہ فخر بھی ہے اور ان سے پیار بھی ،اللہ ان کی قربانیوں
گو کہ میں جانتا ہوں کہ میدان جہاد سجا ہو تو، ’’شہید‘‘ یا ‘‘ ’’غازی‘‘ کا اعزاز مجاہد کے لئے کسی قیمتی ترین تمغے سے کم نہیں ہوا کرتا،ہم نے سوویت یونین کو جہادیوں کی جہادی یلغار کے سامنے بے
مولانا فضل الرحمن،مفتی محمد تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن،مولانا قاری محمد حنیف جالندھری،پروفیسر ساجد میر سمیت دیگر مسلم قائدین کی خدمت میں اس نیت سے کالم کے ذریعے یہ چندگزارشات پیش کر رہا ہوں تاکہ ان کے توسط سے عوام بھی
ناموس رسالت پہ حملوں کے بدترین جرم میں گرفتارپانچ سو کے لگ بھگ شیطانوں کے سہولت کاروں کو خبر ہو کہ علماء اسلام آباد جاگ چکے ہیں،یہ خاکسار اس سے قبل بھی اپنے کالموں میں لکھ چکا ہے کہ تحفظ
(گزشتہ سےپیوستہ) پھر موسیٰ ں نے ارشاد فرمایا، حمد ہے اس ذات پاک کی جس نے مجھ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، مجھ پر تورات نازل فرمائی، فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائی
ماہ رجب کی ایک عظیم الشان خصوصیت معراج نبوی ہے، جو مشہور قول کے مطابق 27 رجب کو ہوئی‘ حضور اکرم ﷺشعب ابی طالب کے پاس ام ہانی کے گھر میں آرام فرما رہے تھے، چھت پھٹی جبرئیل علیہ السلام