لاہور: معروف کامیڈین، اداکار اور میزبان افتخار ٹھاکر نے ذیابیطس (شوگر) کے بڑھتے ہوئے مرض اور انسانی رویوں کے درمیان تعلق کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسد اور منفی سوچ صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے افتخار ٹھاکر نے کہا کہ بے ایمانی اور بری نیت رکھنے والا شخص حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق انسان کے خیالات اور رویے اس کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ طبی ماہرین شوگر کو ذہنی دباؤ، پریشانی، ڈپریشن اور دیگر طبی عوامل سے جوڑتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک حسد بھی ایک ایسا عنصر ہے جو انسان کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص دوسروں کی کامیابی سے جلتا ہے، ان کی ترقی کو پسند نہیں کرتا یا اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر شکوہ کرتا ہے تو اس کے منفی اثرات اس کی شخصیت اور صحت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
افتخار ٹھاکر نے مزید کہا کہ حسد انسان کو دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر ذہنی مسائل کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونا اور مثبت سوچ اپنانا ایک بہتر اور پرسکون زندگی کی بنیاد ہے۔
اداکار نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں اور نعمتوں سے نوازا ہے، اس لیے انسان کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں اور اپنی توجہ مثبت طرزِ زندگی پر مرکوز رکھنی چاہیے۔
واضح رہے کہ افتخار ٹھاکر کے یہ خیالات ان کی ذاتی رائے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں موروثی عوامل، غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، موٹاپا اور دیگر طبی عوامل شامل ہیں۔
