افواج پاکستان، ہر آفت میں شانہ بشانہ
قوموں کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، اور اکثر فطرت کی طرف سے ملنے والے امتحان سب سے سخت ثابت ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں صبر، حوصلہ اور اتحاد ہی ایک قوم کی اصل قوت کو ظاہر
قوموں کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، اور اکثر فطرت کی طرف سے ملنے والے امتحان سب سے سخت ثابت ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں صبر، حوصلہ اور اتحاد ہی ایک قوم کی اصل قوت کو ظاہر
1947 ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد دنیا کے نقشے پر دو خودمختار ریاستیں ابھریں ، پاکستان اور بھارت۔ ان دو ممالک کا قیام محض جغرافیائی علیحدگی نہ تھا؛ بلکہ یہ ایک پیچیدہ اور اکثر معاندانہ تعلق کا آغاز
امریکہ نے باضابطہ طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو، جو بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی پھیلانے کے لئے بدنام ہے، ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ برسوں کے ایسے شواہد کے بعد
سردار ایاز صادق اُن چند منفرد اسپیکرز میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بحیثیت سپیکر ایسی روایات قائم کیں جو اس سے قبل پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی نمایاں کوششوں میں سے
(گزشتہ سے پیوستہ) صدرٹرمپ کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ہند-امریکہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا گیا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی صدارت کے آغاز میں اسلام آباد پر سخت تنقید کی تھی، مگر 2019 ء کے وسط تک اُن کالہجہ خاصانرم
2000 کی دہائی کےاوائل سےہند- امریکہ تعلقات کوعموماً بڑھتےہوئےتزویراتی اشتراک کی علامت کےطورپردیکھاجاتارہاہے،خاص طورپر دفاعی تعاون،تجارت اورچین کےابھار پر مشترکہ تشویش جیسےشعبوں میں۔ تاہم صدرڈونلڈٹرمپ کےدورِحکومت (2017–2021) میں یہ تعلقات متعدد غیرمتوقع نشیب و فراز، سفارتی سردمہری کے لمحات اورخاص
1947 ء میں پاکستان کے قیام کے بعد سے وطنِ عزیز کے وہ بیٹے اور بیٹیاں جو دیارِ غیر میں آباد ہوئے، اپنے ملک کے ساتھ گہری وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کے مختلف براعظموں میں پھیلے ہوئے یہ
ایک ایسی دنیا میں جہاں نایاب جانوروں کو بچانے کی مہمات اور جانوروں پر ظلم کے خلاف احتجاج چند گھنٹوں میں عالمی حمایت حاصل کر لیتے ہیں، وہاں مسلمانوں کے بے رحم قتلِ عام پر مسلسل خاموشی ناقابلِ برداشت حد
مجھے فخر ہے کہ میں لاہور کا رہائشی ہوں، ایک ایسا شہر جس کا نام سنتے ہی دل میں محبت، جفاکشی اور مہمان نوازی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ لاہور کے لوگ، جنہیں محبت سے ’’زندہ دلانِ لاہور‘‘ کہا جاتا
مون سون کی آمد سے پہلے ہی پاکستان کے مختلف علاقے تباہی کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔ بے موسمی اور نہ تھمنے والی بارشیں اس سرزمین پر اس شدت سے برسیں کہ سیلابی ریلوں نے گھروں، سڑکوں، فصلوں اور