Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

واشنگٹن اورنئی دہلی کےدرمیان بڑھتی ہوئی خلیج

2000 کی دہائی کےاوائل سےہند- امریکہ تعلقات کوعموماً بڑھتےہوئےتزویراتی اشتراک کی علامت کےطورپردیکھاجاتارہاہے،خاص طورپر دفاعی تعاون،تجارت اورچین کےابھار پر مشترکہ تشویش جیسےشعبوں میں۔ تاہم صدرڈونلڈٹرمپ کےدورِحکومت (2017–2021) میں یہ تعلقات متعدد غیرمتوقع نشیب و فراز، سفارتی سردمہری کے لمحات اورخاص طور پر امریکی جانب سے برملا عدم اطمینان کے اظہار کا شکار ہوئے۔ دنیاکی دو بڑی جمہوریتوں کے درمیان’’قدرتی اتحاد‘‘ کےتصور کےبرعکس،ٹرمپ انتظامیہ کابھارت کےساتھ رویہ اکثر ٹھنڈی حقیقت پسندی اورواضح ناراضی سےعبارت تھا۔ اوبامادور کی پرامیدی سے یہ انحراف ایک تفصیلی تجزیے کا متقاضی ہے۔
صدر ٹرمپ،جو اپنی لین دین پر مبنی خارجہ پالیسی کے لیے معروف تھے، نے متعدد مواقع پر بھارت کےحوالے سے اپنی مایوسی کا کھلے عام اظہار کیا۔ اس کی ایک ابتدائی مثال 2 جنوری 2018 ء کو سامنے آئی، جب انہوں نے پاکستان کے خلاف ایک سخت ٹویٹ کی، جس میں کہا گیاکہ امریکہ نے’’گزشتہ 15 برسوں میں بیوقوفی سےپاکستان کو 33 ارب ڈالر سے زائد امداد دی” لیکن بدلےمیں ”صرف جھوٹ اور دھوکہ‘‘ ملا۔ اگرچہ یہ ٹویٹ اسلام آباد کے خلاف تھی، لیکن اس میں بالواسطہ طور پرجنوبی ایشیا سےمتعلق واشنگٹن کی پالیسی میں اس تبدیلی کااشارہ موجود تھاجس میں خطے کے اتحادیوں،بشمول بھارت پر یہ دباؤ ڈالاجارہا تھاکہ وہ اپنے مفادات کو عملی اور قابلِ پیمائش انداز میں ثابت کریں۔
بھارت سےٹرمپ کی ناراضی تجارتی مذاکرات کےدوران مزید واضح ہو گئی۔ 5 جون 2019 ء کو امریکہ نے باقاعدہ طور پربھارت کوجنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی) کے تحت ترقی پذیر ممالک کی فہرست سےخارج کردیاجس سے بھارت کی 5.6 ارب ڈالر کی برآمدات متاثر ہوئیں۔ امریکی تجارتی نمائندےکےدفتر نےموقف اختیارکیاکہ بھارت ’’اپنی منڈیوں تک منصفانہ اور معقول رسائی‘‘ دینےمیں ناکام رہا۔
اگرچہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ بظاہر قریبی تعلقات کا مظاہرہ کیا، خاص طور پر 22 ستمبر 2019ء کو ہیوسٹن میں منعقدہ‘‘ہیاؤڈی مودی’’تقریب میں، جہاں دونوں رہنماؤں نے 50 ہزار سے زائد افراد کےمجمعے سےخطاب کیاتاہم اس دوستانہ ماحول کے پسِ پردہ کئی بنیادی مسائل بدستورحل طلب رہے۔ ٹرمپ نےاپنی تقریرمیں بھارت کی جمہوریت اورمعیشت کی تعریف کی لیکن بعدمیں دیئے گئے انٹرویوز اور پالیسی اقدامات میں تجارتی کشیدگی جوں کی توں برقرار رہی۔
دفاعی شعبےمیں اگرچہ بھارت نے’’سی او ایم سی اےایس اے‘‘ (6 ستمبر 2018) اور’’بی ای سی اے‘‘ (27 اکتوبر 2020) جیسے اہم معاہدوں پر دستخط کیےلیکن روس سے 5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا سی 400 میزائل نظام خریدنےکے فیصلے نے واشنگٹن کو ناراض کر دیا۔ امریکی حکام، بشمول اُس وقت کے وزیرِخارجہ مائیک پومپیو نے جون 2019 ء میں نئی دہلی کےدورے کے دوران بھارت کو خبردار کیا کہ اگر وہ یہ معاہدہ جاری رکھتا ہے تو اسے’’ سی اے اے ٹی سی اے‘‘ کے تحت امریکی پابندیوں کاسامنا کرناپڑسکتا ہے۔ بھارت نےاس انتباہ کے باوجود پیچھے ہٹنےکاکوئی اشارہ نہ دیا۔
امریکہ کو یہ بھی تشویش رہی کہ بھارت نےایشیا میں امریکی اسٹریٹجک اہداف کے ساتھ براہِ راست ہم آہنگی اختیار کرنےسے گریز کیا۔ واشنگٹن چاہتا تھا کہ بھارت انڈو پیسفک خطے میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ 2017 ء کی امریکی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹیجی میں بھارت کو کلیدی شراکت دار قراردیاگیاتھا،تاہم امریکی پالیسی ساز بھارت کے محتاط رویے سے مایوس ہوتے گئے۔ بھارت نے کواڈ اجلاسوں اور مالابار بحری مشقوں میں شرکت کی مگر چین کے ساتھ کشیدگی کو سفارتی دائرے سے آگے لےجانےسےگریز کیا، خاص طور پر 2017 ء کے ڈوکلام تنازع اور جون 2020 ء میں گلوان وادی جھڑپ کے دوران۔
ایک اور اہم واقعہ جو اعتماد میں کمی کا باعث بنا، وہ صدرٹرمپ کا 22 جولائی 2019ء کو وزیرِاعظم عمران خان کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں دیاگیا ایک بیان تھا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیرِاعظم مودی نے ان سے کشمیر پر ثالثی کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا:میں دو ہفتے قبل وزیرِاعظم مودی کے ساتھ تھا، اور انہوں نے واقعی کہا،‘کیا آپ ثالث یا مصالحت کار بننا پسند کریں گے؟ بھارتی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئےکہا کہ’’ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی‘‘ اور کشمیر ایک دوطرفہ معاملہ ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں