(گزشتہ سے پیوستہ)
صدرٹرمپ کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ہند-امریکہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا گیا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی صدارت کے آغاز میں اسلام آباد پر سخت تنقید کی تھی، مگر 2019 ء کے وسط تک اُن کالہجہ خاصانرم ہوچکاتھا،خاص طورپرجب پاکستان نےافغانستان میں امریکہ- طالبان امن مذاکرات میں کردار ادا کیا۔ جولائی 2019ء میں عمران خان کے دورہ واشنگٹن کے دوران، ٹرمپ نے پاکستان کے ’’زبردست تعاون‘‘ پرشکریہ ادا کیا اور مستقبل میں ’’بہت اچھے تعلقات‘‘ کی امیدظاہر کی۔ یہ مؤقف نئی دہلی کی اس توقع کے برعکس تھا کہ اُڑی اور پلوامہ واقعات کے بعد واشنگٹن بھارت کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے کھڑا ہوگا۔
روس کے ساتھ بھارت کےمسلسل تعلقات ٹرمپ کےبعدبھی کشیدگی کاباعث بنےرہے۔ فروری 2022ء میں روس کے یوکرین پرحملےکے بعد بائیڈن انتظامیہ اور نیٹو اتحادیوں نے ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کیں اور عالمی شراکت داروں بشمول بھارت سے مغربی اتحاد میں شامل ہونےکی توقع کی۔ تاہم بھارت نے ایک متوازن، غیرجانبدارانہ مؤقف اختیار کیا۔ اُس نے اقوام متحدہ میں روس کےخلاف کئی قراردادوں میں ووٹنگ سےاجتناب کیااور روس کے ساتھ سفارتی و اقتصادی روابط جاری رکھے۔
ایک بڑانقطہ اختلاف بھارت کی جانب سےروسی خام تیل کی رعایتی نرخوں پربڑھتی ہوئی درآمدات تھا۔جب مغرب روس کو اقتصادی طورپرتنہاکر رہا تھا، بھارت نے اپنی قومی توانائی کی ضروریات اور قیمتوں میں استحکام کاحوالہ دیتے ہوئے خریداری میں اضافہ کیا۔ 2022ء کے آخر تک روس، عراق اور سعودی عرب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بھارت کا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک بن چکا تھا۔ امریکی اور یورپی حکام نے اس پر تنقید کی، مگر بھارت نے اپنے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا۔ اپریل 2022ء میں واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران جب بھارتی وزیرِخارجہ ڈاکٹر ایس جےشنکر سے روسی تیل کی خریداری پر سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ”اگر آپ روس سے توانائی کی خریداری کو دیکھ رہے ہیں تو میں تجویز کروں گا کہ آپ کی توجہ یورپ پرہونی چاہیے…ہم کچھ توانائی ضرور خریدتے ہیں، جو ہمارے توانائی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
یہیں وہ گہرا سوال جنم لیتا ہے کہ کیا یہ سفارتی سرد مہری صرف تیل کی خریداری سے جڑی ہے یا اس کے پیچھے وہ بڑھتی ہوئی امریکی بےچینی ہےجو بھارت کے برکس میں کردار، گلوبل ساؤتھ سے اس کی معاشی وابستگی اور امریکی ڈالر کی عالمی بالادستی کو چیلنج کرنے کی صلاحیت سے متعلق ہے؟ بھارت، چین، روس، برازیل اورجنوبی افریقہ کے ساتھ مل کر برکس میں متبادل ادائیگی نظام کو فروغ دے رہا ہے، جن میں قومی کرنسیوں میں تجارت اور غیرڈالر ذخیرہ جاتی نظام کی توسیع شامل ہے۔ امریکہ، جو عالمی معاشی اثرورسوخ اور پابندیوں کےنظام کوقائم رکھنے کے لیے ڈالر پر انحصار کرتا ہے، کے لیے یہ رجحان اسٹریٹجک طور پر باعثِ تشویش ہے۔ اگرچہ بھارت کھلے عام مغرب کا مخالف نہیں، لیکن مالیاتی کثیر القطبیت کی اس کی کوششیں جیسا کہ روس کو روپے میں توانائی کی ادائیگی اور غیر ڈالر لین دین میں شرکت، امریکی قیادت میں قائم اقتصادی غلبے کو چیلنج کرتی ہیں۔ واشنگٹن کےنقطہ نظر سے، یہی عوامل نہ صرف نئی دہلی پر دباؤ کا باعث ہیں بلکہ ان ادوار میں سرد رویے کی بھی وضاحت کرتے ہیں، جب بظاہر تعلقات خوشگوار نظر آتے ہیں۔
یہ صورتحال بھارت کے ایک دیرینہ اصول کواجاگر کرتی ہے،اتحاد پر انحصار کے بجائے’’کثیر جہتی ہم آہنگی‘‘۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان توقعات کا عدم توازن ایک مستقل حقیقت ہے۔ امریکہ چاہتا ہےکہ بھارت روس اورچین دونوں کے خلاف مغربی کیمپ میں مکمل طور پرشامل ہو جبکہ بھارت اپنے مفادات کو علاقائی توازن، تزویراتی خودمختاری اور اقتصادی ضرورت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ امریکی بےصبری، خواہ وہ ٹرمپ کے دور میں ہو یا بائیڈن کے، اس بنیادی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکی۔
ماضی کے تناظر میں ٹرمپ-مودی دور ایک تضاد کا حامل تھا، عوامی سطح پر دوستی اور گرم جوشی کے مظاہرے درحقیقت پالیسی کی سطح پر موجود اختلافات کو چھپا رہے تھے۔ دوستی حقیقی تھی مگر مشروط۔ ٹرمپ چاہتے تھے کہ بھارت ’’زیادہ خریدے، زیادہ کرے، اور زیادہ ہم آہنگ ہو‘‘ لیکن امریکی نقطہ نظر سے بھارت اُن کی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکا۔
لہٰذا ٹرمپ کے دورِ صدارت اوراس کے بعد بھی ہند-امریکہ تعلقات میں جو سردمہری دکھائی دی، وہ کسی ایک بڑے واقعے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ پوری نہ ہونے والی توقعات، متصادم سفارتی رویّوں، اور متضاد قومی مفادات کا حاصل تھی۔ اگر کچھ ثابت ہوا، تو وہ یہ کہ اسٹریٹجک شراکت داری صرف مسکراہٹوں اور نعروں سے قائم نہیں ہوتی اس کے لیے اعتماد، ایک دوسرے کی سرخ لکیروں کا احترام اور سب سے بڑھ کر حقیقت پسندانہ توقعات ضروری ہوتی ہیں۔