قانون کی حکمرانی اور ڈنمارک کے سائیکل سوار جج!
کھاریاں کے رہنے والے رحمت خان کا ہونہار اور خوش بخت بیٹا، ڈنمارک عدلیہ کی 364 سالہ تاریخ میں سپریم کورٹ جج کے منصبِ بلند تک پہنچنے والا پہلا مسلم ا ور پاکستانی، مسٹر جسٹس محمد احسن بڑے انہماک سے
کھاریاں کے رہنے والے رحمت خان کا ہونہار اور خوش بخت بیٹا، ڈنمارک عدلیہ کی 364 سالہ تاریخ میں سپریم کورٹ جج کے منصبِ بلند تک پہنچنے والا پہلا مسلم ا ور پاکستانی، مسٹر جسٹس محمد احسن بڑے انہماک سے
ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کے پانچ روزہ دورے کے بعد میں واپسی کا رختِ سفر باندھ چکا ہوں۔ کوپن ہیگن، سٹاک ہوم اور اوسلو میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں، وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ، اہم قائمہ کمیٹیوں کے ارکان اور پاکستانیوں
ایک وقت تھا جو تمام ہوچکا۔ آج پی۔ٹی۔آئی سے 9 مئی کی معافی کا تقاضا یا سنجیدہ، بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی توقع، جلتے بلتے ریگزاروں میں لالہ وگُل کھلانے کی سعیِٔ لاحاصل کے مترادف ہے۔ پے درپے غلطیوں
پاکستان کے ایوانِ بالا (سینٹ) میں غزا پر اسرائیلی حملے اور قتل وغارت گری پر بحث کا آغاز ہوا تو زور دار تقریروں کے ’’سِپل ویز‘‘ کھُل گئے۔ آتشیں لفظوں کی پھلجھڑیاں چھوٹنے لگیں۔ یوں لگا جیسے ایوان کا اجلاس
جھوٹ کبھی بانجھ نہیں رہتا۔ انڈے بچے دیے چلا جاتا ہے۔ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے سو جھوٹ بولنا پڑتے ہیں اور یہ سلسلہ شیطان کی آنت کی طرح پھیلتا ہی چلا جاتا ہے۔ جھوٹ کی علّت
کہنے کو تو برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یاسینٹ کو ’’دارُالامرا‘ کہاجاتا ہے لیکن یہ جھُومر اپنے حقیقی معنی ومفہوم اور بھرپور صداقت کے ساتھ صرف ہماری سینٹ کی پیشانی پرہی سجتا ہے۔ جمعیت العلمائے اسلام کے ترجمان حافظ حمداللہ
کیا وفا کیش اور جماعت سے گہری وابستگی رکھنے والے پانچ اسیرانِ لاہور کا خط، اندھی گلی میں بھٹکتی پی۔ٹی۔آئی کو جُگنو بھر روشنی دے پائے گا؟ کیا چند سطور پر مشتمل یہ ’پریس ریلیز‘ ہرآن آمادۂِ بحران تحریکِ انصاف
اسباب ومحرّکات جو بھی ہوں، زہریلے شیش ناگ کی طرح پھَن پھیلا کر پھنکارنے والی تلخ حقیقت یہ ہے کہ علوم وفنون کی ترقی، ایجادات میں حیرت انگیز پیش رفت، عالی شان درس گاہوں کی چشم کُشا تحقیقات، مصنوعی ذہانت
میں اپنے ایک کالم میں عبدالرحمان پیشاوری کا ذکر کرچکا ہوں جس نے چھبیس سال کی عمر میں، علی گڑھ کالج کو الوداع کہا اور ترکوں کے شانہ بہ شانہ ’جنگِ بلقان‘ لڑنے ایک صدی پہلے کے قسطنطنیہ جاپہنچا۔ برادرِ
’’آپریشن سیندور‘‘ کی لاش،دَس مئی سے بےگوروکفن پڑی ہے۔ اَب تو اُس سے تعّفن بھی اُٹھنے لگا ہے۔ کھال ہڈّیاں چھوڑ رہی ہے۔ مُودی، بہار کے انتخابات جیتنے کے لئے گلی گلی محلّے محلّے جھوٹ کے سرکس سجارہا ہے۔ آپریشن