خان صاحب ! کیا آپ کی بھی کچھ حدود ہیں ؟
بے برگ وثمر خطوط نویسی سے اُکتا کر، عمران خان نے معروف امریکی جریدے ’’ٹائم‘‘ کے لئے ایک مضمون تحریرکیا ہے۔ یہ مضمون دراصل کس نے لکھا؟ کیسے ’’ٹائم‘‘ تک پہنچا؟ تحقیق وتفتیش کے کن مراحل سے گزر کر ’’ٹائم‘‘
بے برگ وثمر خطوط نویسی سے اُکتا کر، عمران خان نے معروف امریکی جریدے ’’ٹائم‘‘ کے لئے ایک مضمون تحریرکیا ہے۔ یہ مضمون دراصل کس نے لکھا؟ کیسے ’’ٹائم‘‘ تک پہنچا؟ تحقیق وتفتیش کے کن مراحل سے گزر کر ’’ٹائم‘‘
چیف جسٹس، مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی، عدالتی نظام میں اصلاحات کے لئے لا اینڈ جسٹس کمیشن کی تیار کردہ دس نکاتی تجاویز پر وسیع تر مشاورت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اور اُن کے قانونی مشیروں کے بعد چیف جسٹس نے
اپریل2022ء سے اَب تک، پی۔ٹی۔آئی کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار ہوا نہ روایتی عدمِ استحکام کا کوئی ایسا بھونچال آیا کہ دَرودِیوار لرز اٹھتے اور نظمِ حکومت کو سنبھالے رکھنا مشکل ہوجاتا۔ البتہ پی۔ٹی۔آئی
کچھ عرصہ قبل سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عدلیہ 142 ممالک میں 130 ویں اور خطے کے چھے ممالک میں پانچویں نمبر پر تھی۔ اِس مقامِ بلند پر فائز ہونے کا واحد محر ک عزت مآب جج
تحریکِ انصاف جس بے تابی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئی تھی، اُسی شتابی کے ساتھ رُخصت ہوگئی۔ 23 دسمبر کو شروع ہونے والا سلسلۂِ مذاکرات، تین نشتوں کے بعد 23 جنوری کو ختم ہوگیا۔ کبھی کرکٹ کے ایک
190 ملین پائونڈ کے عدالتی فیصلے میں ’’القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ‘‘ کو جعلی (SHAM) ٹرسٹ قرار دیاگیا ہے جو بحریہ ٹائون کے مالک، ملک ریاض حسین سے، 170 ملین ڈالر کے عوض زمین، نقد رقوم اور متعدد دیگر مفادات بٹورنے
190ملین پائونڈ کے عنوان سے معروفِ زمانہ مقدمے کا فیصلہ آ گیا۔ اِس طلسمِ ہوش رُبا کاپہلاباب، سندھ سےطلوع ہوتاہےجہاں ملیرڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بحریہ ٹائون کے درمیان وسیع وعریض زمین کا تبادلہ ہوا۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو اِس ڈیل
ماں کو دنیا سے رُخصت ہوئے اٹھارہ برس ہو گئے۔ پچھلی بار جب میں راولپنڈی کے اُس قدیم قبرستان پہنچا جہاں میرے والدِ مرحوم کی پائینتی سے ذرا آگے کر کے میری والدہ کی قبر ہے تو ہلکی ہلکی بارش
بھٹو کی بیٹی کو رخصت ہوئے سترہ برس ہو گئے۔ اس سے میری آخری ملاقات کو کم و بیش اٹھارہ برس ہو چلے ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران کتنے ہی واقعات قصہ ماضی بن کر حافظے کی لوح سے
کیا پاکستان واقعی کسی ’سیاسی عدمِ استحکام‘ کا شکار ہے یا یہ محض بیانیہ تراشی کے ہُنر کی معجزہ کاری ہے جو ’’حقیقتِ ثابتہ‘‘ کے طورپر دِل ودماغ میں بو دی گئی ہے؟ ’’عدمِ استحکام‘‘ کے مَرض کی تشخیص کے