ایسا کیوں ؟
سوشل میڈیا پر بسا اوقات ایسی ایسی تحریریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں جو مشتمل ہوتی تو صرف چند لائنوں پر ہیں لیکن مفہوم کے لحاظ سے سمندر کی گہرائی سمیٹے ہوتی ہیں۔ آج کچھ اس طرح کا تجربہ اس
سوشل میڈیا پر بسا اوقات ایسی ایسی تحریریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں جو مشتمل ہوتی تو صرف چند لائنوں پر ہیں لیکن مفہوم کے لحاظ سے سمندر کی گہرائی سمیٹے ہوتی ہیں۔ آج کچھ اس طرح کا تجربہ اس
فریڈرک نطشے ایک جرمن فلاسفر اور استاد گزرا ہے جو 1844 ء میں پیدا ہوا اور 1900 ء میں وفات پا گیا۔ فلسفہ کے علاوہ اس کے دوسرے اشغال میں نثری شاعری، ثقافتی تجزیہ نگاری وغیرہ کا بھی کافی غلبہ
فکری اساس کے مالکوں کے نزدیک کوئی مانے یا نہ مانے لیکن زمینی حقائق کی طرف دیکھیں تو اس حقیقت سے انکار ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ وہ ملک جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اس کا
گزشتہ کالم میں راقم نے آپنے قارئین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے اگلے کسی کالم میں اس سباق بات کریگا کہ لفظ”فتنہ “ سے کیا مراد ہے۔ راقم کیونکہ خود ابھی طفلِ مکتب ہے اور علم کے ایک
موسم بہارکی ڈھلتی رات کا سماں، کھلا آسمان اورایسے میں اکادکاتیرتےبادلوں کے گھونگٹ سے نکلتے کھوئےکھوئےچاند کی اداس چاندنی تو پھر ایسے میں دل پر کیا گزرتی ہو گی ذرا اس قیامت کا تصور کیجئے۔ یہ کسی شاعر کا تخیلاتی
روایت ہے کہ ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ’’سمندر کی طرف جائو وہاں تین کشتیاں ڈوبنے والی ہیں‘‘ حضرت موسیٰؑ فوراً حکم الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے سمندر کی جانب چل دئیے ساحل